ہوم   >  پاکستان

مردان: 6 سالہ بچی کے ریپ اور قتل میں ملوث 2 ملزمان گرفتار

1 year ago

مردان میں جنسی زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 6 سالہ بچی حسینہ کے قتل میں ملوث دو ملزمان کو پولیس نے گر فتار کرلیا۔ مرکزی ملزم بچی کا سو تیلا چچا جبکہ دوسرا ملزم سگا چچا ہے۔ دونوں ملزموں نے پو لیس کے سامنے اپنے جر م کا اعتراف کر لیا۔

واضح رہے کہ  7 اگست کو تحصیل تخت بھائی کے علاقہ فتو کلے میں 6 سال کی بچی حسینہ لا پتہ ہوئی اور ایک دن بعد اس کی لاش گھر کے قریب کھیتوں سے ملی تھی۔

سما ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے ڈی پی او مردان پولیس کیپٹن(ر) واحد محمود نے کہا کہ دونوں ملزمان نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کیا ہے جس کے بعد دونوں کو عدالت میں پیش کرکے باضابطہ بیان قلمبند کیا جائے گا۔

ڈی پی او مردان نے بتایا کہ اس کیس کے لیے ایک تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے جائے وقوعہ کے قریب چار گاؤں سے 426 افراد کے ڈی این اے حاصل کئے جن میں ابتدائی طور پر 23 مشتبہ افراد کو پولیس نے  حراست میں لیا اور ان سے تفتیش جاری رہی۔ اس دوران 23 میں سے 19 ملزمان کو پولیس نے چھوڑ دیا جبکہ 4 افراد کو بدستو حراست میں رکھا اور تفتیش کا عمل جاری رہا۔

ڈی پی او کے مطابق 4 مشتبہ افراد میں دو ملزمان نے دوران تفتیش جرم کا اعتراف کیا ہے جن میں ایک ملزم کا نام خان محمد ہے جو رشتے میں بچی کا سوتیلا چچا لگتا ہے اور اس کی عمر 22 سال ہے۔ پولیس نے ملزمان کے اعتراف کے بعد باقی ماندہ 2 مشتبہ افراد کو چھوڑ دیا ہے۔

ملزم خان محمد 6 سالہ حسینہ کو دکان سے چیز لینے کے بہانے اپنے خالی گھر  لے گیا اور وہاں جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر ان پر تشدد کیا اور بعد میں گلا دبا کر قتل کیا۔

ڈی پی او نے کہا کہ ملزم نے بعد میں جرم کے بارے میں اپنے سو تیلے بھائی نصراللہ جو کہ حسینہ کا سگا چچا ہے کو آگاہ کیا۔ نصراللہ نے مرکزی ملزم کی مدد کرتے ہوئے  بچی کی لاش کو گھر سے لے جا کرقریب کھیتوں میں پھینک دیا اور خاموشی اختیار کرلی۔

پر یس کا نفرنس کے دوران پو لیس نے ملزمان کے چہرے ڈھانپ کر ان کو میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں