پاکستان میں تمباکو نوشی کی تباہ کاریاں

Shakeel Ahmed
August 12, 2018

پاکستان میں تمباکو نوشی یومیہ تین سو افراد کی زندگی نگل رہی ہے ۔ روز چودہ سو بچے بھی تمباکو نوشی میں مبتلا ہورہے ہیں۔

لیکن حکومت کا دہرا معیار برقرار ہے ۔ ایک طرف تمباکو نوشی کو خطرہ قرار دیتی ہے ۔ دوسری طرف ٹیکس کے لیے بھی فکر مند ہے ۔

سینیٹ کی خصوصی کمیٹی میں چشم کشا انکشافات کیے گئے ہیں۔

سینیٹ کی خصوصی کمیٹی میں دل دہلا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے ثناء اللہ گھمن کہتے ہیں پاکستان میں تین سو لوگ یومیہ تمباکو کی وجہ سے دنیا سے جارہے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے چودہ سو بچے روزانہ تمباکو نوشی میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے روزآنہ پانچ ہزار افراد اسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں۔

تمباکو نوشی پر کیسے قابو پائیں؟ حکومت کنفیوژن کا شکار ہے، کیونکہ ٹیکس بھی تو لینا ہے ۔

مالی سال دو ہزار سترہ میں سگریٹ پر ٹیکس کی تیسری کیٹگری متعارف کرائی گئی ۔ لیکن تمباکو کی پیداوار اور استعمال بڑھ گیا ۔

حکومت نے تمباکو کی صنعت سے دو ہزار سولہ میں ایک سو گیارہ ارب ٹیکس وصول کیا ۔

دو ہزار سترہ میں ٹیکس وصولی صرف چوہتر ارب رہی ۔ اس بار ٹیکس وصولی اٹھاسی ارب روپے ہوئی ۔

تمباکو نوشی کو مضر صحت قرار دینے والی حکومت اِس صنعت سے ٹیکس وصولی ایک سو دس ارب روپے سے اوپر لے جانا چاہتی ہے ۔