Friday, October 30, 2020  | 12 Rabiulawal, 1442
ہوم   > Latest

گلگت،پولیس چوکی پر دہشت گردوں کا حملہ،3 اہلکار شہید

SAMAA | - Posted: Aug 11, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 11, 2018 | Last Updated: 2 years ago

گلگت کي کارگاہ جوت پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملے ميں تين پوليس اہلکار شہید، جب کہ دو اہل کار زخمی ہوگئے۔ ابتدائی موصول اطلاعات کے مطابق پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک دہشت گرد مارا گیا۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والا دہشت گرد دیامیر کے اسکولوں پر حملوں میں ملوث تھا۔ پولیس...

گلگت کي کارگاہ جوت پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملے ميں تين پوليس اہلکار شہید، جب کہ دو اہل کار زخمی ہوگئے۔

ابتدائی موصول اطلاعات کے مطابق پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک دہشت گرد مارا گیا۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والا دہشت گرد دیامیر کے اسکولوں پر حملوں میں ملوث تھا۔ پولیس کے مطابق چیک پوسٹ پر حملے کا واقعہ رات گئے پیش آیا۔ پولیس کی مزید نفری علاقے میں طلب کرلی گئی ہے۔

 

شہید ہونے والے پولیس اہلکار کی لاشیں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جب کہ دہشت گرد کے ساتھیوں کی تلاش کیلئے علاقے میں شرچ آپریشن جاری ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواہد چوہدری کی جانب سے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں فواہد چوہدری کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں جو ہو رہا ہے یہ عمومی صورت حال نہیں ہے، فوری طور پر موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ خدا ہمارا حامی و نا صر ہو، دہشت گردی کے اس عفریت کو مل کر ہی شکست دی جا سکتی ہے۔ ہم اپنے شہیدوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔

 

واضح رہے کہ یکم اگست کو دیامیر کے مختلف ضلع کے بعض زیر تعمیر اور تکمیل کے قریب اسکولوں کو نشانہ بنایا اور آگ لگا کر نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

 

گلگت بلتستان کی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حملوں میں دہشت گردوں نے تقریباً چار لڑکیوں کے اسکول تباہ کیے، جب کہ سات کے قریب اسکولوں میں بچے اسکول جاتے تھے، جب کہ باقی اسکول زیر تعمیر تھے اور مکمل ہونے والے تھے۔‘

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں سرکاری اسکولوں کو نشانہ بنانے کا واقعہ اس سے پہلے علاقے میں کبھی نہیں ہوا۔

 

پولیس کے مطابق اس علاقے میں اس سے پہلے سال 2003-2004 میں اسکولوں پر حملوں کے واقعات پیش آئے تھے لیکن بعد میں یہ سلسلہ رک گیا تھا تاہم اب اچانک یہ دوبارہ ہوئے ہیں۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگست 2013 میں چلاس میں شدت پسندی کے ایک واقعے میں سپرانٹینڈنٹ پولیس، پاکستان فوج کے ایک کرنل سمیت تین افراد شہید ہوگئے تھے، جب کہ اس واقعے سے دو ماہ پہلے جون میں دیامر کے علاقے میں دہشت گردوں نے نانگا پربت بیس کیمپ میں دس غیر ملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube