خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ کم ہونے پر پی کے 23 میں دوبارہ انتخابات کا حکم

August 10, 2018

الیکشن کمیشن نے خواتین کی ووٹنگ کی شرح دس فیصد سے کم ہونے پر خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 23 شانگلہ کا انتخابی نتیجہ کالعدم قرار دے دیا۔


چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے جمعہ کو پی کے 23 شانگلہ میں خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ کم ہونے کے معاملے پر سماعت کی۔

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ انتخابات میں دیر میں خواتین کے ووٹ پول نہ ہونے پر ضمنی انتخاب کروایا گیا تھا، آپ نے دیکھا اس بار دیر سے کتنا اچھا ٹرن آوٹ رہا اور اپر دیر میں خواتین کا ٹرن آؤٹ 30 فیصد ہے‘۔

سماعت مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے پی کے 23 کے انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کا حکم دیا۔

اس حلقے میں خواتین ووٹرز کی تعداد 86698 ہے لیکن 25 جولائی کو پولنگ کے دن صرف 3505 خواتین نے ووٹ ڈالے، جو کہ الیکشن کمیشن کے قوانین کے خلاف ہے۔

مذکورہ کیس کی 7 اگست کو ہونے والی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے اس حلقے سے پی ٹی آئی کے امیدوار شوکت علی یوسفزئی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کا حکم دیا تھا۔