بچی کی ہلاکت کا معاملہ، اسپتال انتظامیہ نے والدین کو ہی موت کا ذمہ دار ٹہرادیا

بچی کی ہلاکت کا معاملہ، اسپتال انتظامیہ نے والدین کو ہی موت کا ذمہ دار ٹہرادیا

Samaa Web Desk
August 8, 2018

ملتان میں بچی کی ہلاکت کے معاملے پر نشتراسپتال انتظامیہ نے خود کو اپنی ہی انکوائری رپورٹ میں کلین چٹ دے دی، والدین کو ہی بچی کی موت کا ذمہ دار ٹہرادیا۔

ملتان کے نشتر اسپتال انتظامیہ نے اپنے خلاف انکوائری میں خود کو ہی کلین چٹ دے دی، آٹھ سال کی ماہ نور قادرپوراں میں قاری کےمبینہ تشدد کے بعد مفلوج ہوگئی تھی۔

نشتراسپتال میں والدین نے کئی بار علاج کے لیے احتجاج کیا لیکن بچی سات روز میں جان سے چلی گئی، والدین نے بیٹی کی موت کا ذمہ دار نشتر اسپتال انتظامیہ کو قرار دیا تھا۔

وائس چانسلر کےحکم پر انکوائری کمیٹی نے رپورٹ دی تو نیا انکشاف کردیا کہ بچی پر تو تشدد ہی نہیں ہوا تھا، رپورٹ کے مطابق بچی کی موت اسپتال نہیں والدین کی لاپرواہی سے ہوئی۔

ماہ نور پر تشدد نہیں ہوا تھا تو وہ اچانک مفلوج کیسے ہوئی؟ بچی کو ایک ہفتے علاج کےلیے لائے تب اسپتال نے کیوں نہیں بتایا کہ تشدد ہوا یا نہیں ہوا؟ اسپتال خود اپنے آپ کو کلئیر کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ ان سوالات کا جواب ڈاکٹر نہیں دے سکے۔

یاد رہے کہ ملتان کے علاقے قادرپوراں میں استاد کے بہیمانہ تشدد کے بعد متاثرہ بچی ماہ نور کے نچلے دھڑ نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے، ورثاء نے نشتر اسپتال کے سامنے ماہ نور کو لٹا کر دھرنا دیا تاہم گزشتہ روز متاثرہ بچی دم توڑ گئی ۔