Wednesday, September 30, 2020  | 11 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

سابق صدر مشرف کیخلاف کیس سماعت کیلئے مقرر

SAMAA | - Posted: Aug 3, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 3, 2018 | Last Updated: 2 years ago

سپریم کورٹ پاکستان نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا۔ کیس کی سماعت 20 اگست کو ہوگی۔

اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت سنگین غداری کیس سماعت کے لیے مقررکر لیا، کیس کی سماعت 20 اگست کو ہوگی۔ رجسٹرار خصوصی عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دئیے۔ سابق صدر مشرف کے وکیل سمیت وزارت داخلہ وزارت قانون کو بھی نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔

 

جسٹس یاور علی کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت میں کیس کی سماعت ہوگی۔ ہائی کورٹ کے 3 سینیر جج صاحبان پر مشتمل خصوصی عدالت معاملے کی سماعت کرے گا۔ دیگر ارکان میں بلوچستان ہائی کورٹ کی سینیر ترین جج جسٹس طاہرہ صفدر اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر شامل ہیں۔

 

خصوصی عدالت کے رجسٹرار سیشن جج راؤ عبدالجبار نے 20اگست کو کیس کی سماعت کیلئے متعلقہ فریقین کو آگاہ کر دیا ہے۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے لیے 2013ء میں خصوصی عدالت قائم کی گئی تھی،2014ء میں عدالت نے پرویز مشرف پر فرد ِجرم عائد کی ،لیکن وہ بیرون ملک چلے گئے۔

 

خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو مفرور قراردے کر ان کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی دیا۔ رواں سال کے شروع میں ان کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بھی بلاک کر دیا گیا، تاہم سپریم کورٹ کے حکم پر پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بحال کر دیا گیا۔

 

وفاقی حکومت نے کیس کی پیروی کے لیے قانون دان اکرم شیخ کو پراسیکیواٹر مقرر کیا تھا لیکن اکرم شیخ پراسیکیوشن ٹیم سے الگ ہوگئے اور چند دن پہلے انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔

کیس کا پس منظر:

سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کا کیس مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے شروع کیا تھا اور یہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ کسی آرمی چیف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کی کارروائی کا آغاز ہو۔

مارچ 2014 میں خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر پر فرد جرم عائد کی گئی تھی، جب کہ ستمبر میں پراسیکیوشن کی جانب سے ثبوت فراہم کیے گئے تھے، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے بعد خصوصی عدالت سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مزید سماعت نہیں کرسکی۔

بعد ازاں سال 2016 میں عدالت کے حکم پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل ) سے نام نکالے جانے کے بعد وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ رواں سال 8 مارچ سے خصوصی عدالت نے غداری کیس کی سماعتیں دوبارہ شروع کیں، تاہم 29 مارچ کو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیٰی آفریدی کی معذرت کے بعد آرٹیکل 6 کے کیس میں سابق صدر کے خلاف کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا۔

عدالتی حکم نامے میں بتایا گیا تھا کہ سابق صدر مشرف کی جانب سے جسٹس یحیٰ آفریدی سے متعلق مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ جسٹس یحیٰ آفریدی سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار چوہدری کے وکیل رہ چکے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube