پشاور، خواجہ سراؤں پر تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار، اسلحہ برآمد

August 3, 2018

پشاور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تھانہ سربند کی حدود میں خواجہ سراوں پر تشددکرنے والے 6 ملزمان کو گرفتار کرکے اسلحہ بر آمدکرلیا۔ ملزمان کے خلاف حسب ضابطہ مقدمہ درج کرکے حوالات منتقل کر دیا گیا ہے۔

پشاور سے سما ڈجیٹیل کے رپورٹر صابر شاہ ہوتی کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 3 خواجہ سرا ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے۔ تھانہ سربند کی حدود میں ملزمان نے ان کی گاڑی روک لی اور انہیں گاڑی سے اتار کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان پر چاقو کے وار کئے اور آخر میں فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیے: پشاور، خواجہ سراؤں پر فائرنگ اور تشدد سے 3 زخمی

واقعہ میں تینوں خواجہ سرا شدید زخمی ہوگئے تھے جن کی شناخت گڑیا، اسدے اور لائبہ کے ناموں سے ہوئی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا تاہم خواجہ سراؤں کے احتجاج پر پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

بعد ازاں جمعرات کو سربند پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ جن میں سلمان، ظاہر شاہ، عدنان، قاری، مکرم اور احمد علی شامل ہیں۔ پولیس نے ملزمان کو سے اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔

ٹرانس ایکشن ایکشن پاکستان نامی تنظیم نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا پیج پر دعویٰ کیا تھا کہ تینوں خواجہ سرا ان کی تنظیم سے وابستہ اور خواجہ سراؤں کے حقوق کے سرگرم ارکان ہیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکن تیمور کمال نے سما ڈجیٹل کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں 2015 سے اب تک 57 خواجہ سرا قتل جبکہ تشدد کے 70 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس کے باجود خواجہ سراؤں کے تحفظ کے لیے ڈرافٹ بل صوبائی اسمبلی سے تاحال منظور نہ ہوسکا۔