آئی ایم ایف پیکج کوسی پیک کے ساتھ مشروط کرنا درست نہیں، نگران وزیر خارجہ

August 1, 2018

نگران وزیر خارجہ حسین ہارون نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کومعلوم ہے کہ پاکستان کو معاشی چیلنجز درپیش ہیں، امریکی وزیر خارجہ کا بیل آؤٹ پیکج سےمتعلق بیان نا مناسب ہے۔

نگران وزیر خارجہ حسین ہارون نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کا بیل آؤٹ پیکج سےمتعلق بیان نا مناسب ہے، سی پیک پاکستان کے مستقبل اور ترقی کیلئے لازمی ہے، آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کا حصول نگران حکومت کا مینڈیٹ نہیں۔

نگراں وزیرخارجہ نے کہا کہ یہ معاملہ منتخب حکومت دیکھے گی، پاکستان کی معاشی مشکلات میں مدد کےبدلےڈومورکا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، بھارت کو ہائی ٹیکنالوجی ہتھیاروں کے انفرادی لائسنس دیئے گئے، اس ڈیل کی مالیت 9.7 ارب ڈالر ہے، ہم نے امریکہ سے کہا ہے کہ آپ سے رقم نہیں چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ چینی صدرپاکستان کواپنادوست سمجھتےہیں، چین پاکستان میں اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری کررہاہے، سی پیک چینی صدرکےون بیلٹ ون روڈوژن کاحصہ ہے۔

حسین ہارون نے کہا کہ آئی ایم ایف پیکج کوسی پیک کے ساتھ مشروط کرنا درست نہیں، کوئی بھی سی پیک کی کامیابی میں رکاوٹ نہیں بن سکتا، نئی جمہوری حکومت اقتدار سنبھالنے والی ہے۔

عبداللہ حسین ہارون نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بھاری قیمت اداکی، امریکی انتظامیہ کومعلوم ہے کہ پاکستان کومعاشی چیلنجزدرپیش ہیں، پاکستان سے باربار"ڈومور، ڈومور" کہاجاتاہے۔