ریلوےمیں خسارےکی وجہ غیرذمہ داری اورمنصوبوں کی تکمیل میں تاخیر،آڈٹ رپورٹ

Shahid Hussain
July 24, 2018

پاکستان ریلوے کےخسارے کی فرانزک آڈٹ رپورٹ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیش کردی گئی۔ خسارے کی وجہ غیرذمہ داری اور منصوبوں کی تکمیل میں تاخیرکوقراردیا گیاہے۔

آڈٹ رپورٹ پر محکمہ ریلوے کو بھی نوٹس جاری کردیاگیاہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ ریلوے کوچالیس ارب روپےخسارےکا سامنا ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں خرابیاں دور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔اس رپورٹ کےمطابق پاکستان ریلوے40ارب کےخسارے میں ڈوب گئی۔

اس رپورٹ پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وہ چنے والے کدھر ہیں،اگلی تاریخ پرجواب دیں۔ انھوں نے سوال کیاکہ کیاریلوے میں سب اچھا ہے؟آڈٹ آفسرنےجواب دیاکہ رپورٹ اچھی نہیں ہے،5 سال میں خرابیاں دورکرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔چیف جسٹس نےجواب دیاکہ ادارے نہیں چل رہے تو ملک کیسے چل رہا ہے؟۔

چیف جسٹس کوآڈٹ آفیسرنےبتایاکہ ریلوےکے500 میں سےصرف 50 اسٹیشنز کمپیوٹرائزڈ ہیں۔ ریلوے کا 70 فیصد ریونیو پینشن کی مد میں جا رہا ہے۔ ڈبل ٹریک منصوبہ 4 برسوں سے تاخیرکاشکارہے۔چیف جسٹس نےرپورٹ کوپبلک کرنے کاحکم دیاہے۔