دیر کے دلچسپ انتخابی مقابلے: دو کزن، چچا بھتیجا آمے سامنے

July 21, 2018

جماعت اسلامی کے امیدوار صاحبزادہ طارق اللہ کی ریلی کا منظر

خیبر پختونخوا کے ضلع دیر میں دو دلچسپ انتخابی مقابلے سامنے آئے ہیں جس پر عوام کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ قومی اسمبلی کی ایک نشست پر دو چچا زاد بھائی مد مقابل جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشست پر چچا بھتیجا ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں۔

ضلع دیر اپر سے این اے 5 پرصاحبزادہ طارق اللہ ایم ایم اے جبکہ ان کا کزن صاحبزادہ صبغت اللہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہا ہے۔ صبغت اللہ کے والد مرحوم صاحبزادہ صفی اللہ  دیرمیں جماعت اسلامی کے بانی ارکان میں سے تھے اور دو بار  قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔

دونوں کزنز کے درمیان اختلافات بڑھ گئے جس پر صبغت اللہ نے الیکشن سے دو ماہ قبل جماعت اسلامی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور اب پی ٹی آئی کا امیدوار ہے جس سے ایک طرف پہلی بار جماعت اسلامی کا تو دوسری جانب صاحبزادگان خاندان کا  ووٹ دو واضح حصوں میں تقسیم ہوا جس کا فائدہ پی پی پی سمیت دیگر جماعتوں کو پہنچ رہا ہے۔

صبغت اللہ نے 2008 میں آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ کر 19 ہزار سے زائد ووٹ لئے تھے جبکہ اب انہیں پی ٹی آئی کے ووٹرز کی بھی حمایت حاصل ہے جبکہ صاحبزادہ طارق اللہ 2013 کے الیکشن میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

 اسی طرح صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 11  دیر ٹو میں بھی بھتیجا اور چچا ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں جو پہلے جماعت اسلامی کیلئے دونوں یک آواز ہوا کرتے تھے۔

 سابق ایم پی اے ملک حیات خان 2002 اور 2008 میں رکن صوبائی اسمبلی رہ چکے ہیں جبکہ 2013 میں ملک بہرام خان کو جعلی ڈگری کیس میں نا اہل کیا گیا تھا تو 2015 کے ضمنی الیکشن میں ملک بہرام کے بیٹے ملک اعظم خان کو جماعت اسلامی نے ٹکٹ جاری کیا تھا جس کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کے صاحبزادہ ثناءاللہ منتخب ہوئے تھے۔

اب 2018 الیکشن میں جماعت اسلامی نے دوبارہ ملک اعظم کو ٹکٹ دیا تو ملک حیات خان ناراض ہوکر پاکستان مسلم نواز میں شامل ہوئے اور اب ملک حیات خان بھتیجے ملک اعظم خان کے خلاف پی کے 11 سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر میدان میں اترے ہیں۔

اسی طرح یہاں بھی خاندان اور جماعت اسلامی کا ووٹ تقسیم ہوا ہے جس کا فائدہ پی پی پی، پی ٹی آئی کے امیدواروں کو پہنچ رہا ہے۔

عوام کی نظریں بھی ان دو حلقوں کے دلچسپ مقابلوں پر مرکوز  ہے کہ آپس میں کوئی جیت جائیگا یا ان کے مخالف جماعتیں اس کا فائدہ اٹھا کر کامیاب ہوں گی۔