جرمن سفیر مارٹن کوبلر پاکستان میں اتنے مقبول کیوں ہیں؟

July 14, 2018

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ سفیر یا سفارت کار وہ پروفیشنل خواتین اور مرد ہیں جو ہر وقت ’تھری پیس‘ سوٹ میں ٹائی باندھ کر دوسری حکومتوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ’گھمبیر‘ قسم کے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں۔ کبھی امن مذاکرات توکبھی دوسروں کو جنگ اور پابندیوں کی دھمکیاں دینے لگ جاتے ہیں۔ دوسرے ممالک کے ساتھ تجارتی اور دفاعی معاہدے کرنے یا پھر توڑنے اور اس کے سنگین نتائج کی تنبینہ کرتے ہیں تو معاف کیجئے گا  یہ تصور اب فرسودہ ہوچکا ہے۔

 

جدید سفارت کاری کچھ اور ہی چیز ہے۔ آج کل سفارت کار چاہے مرد ہو یا خواتین، بوڑھے ہوں یا جوان۔ یہ تمام لوگ اب صرف فارمل لباس میں رسمی اجلاسوں اور ملاقاتوں پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ غیر رسمی میل ملاقاتوں میں بھی اپنے ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔ آج کل کے سفارت کار میزبان ملک میں صرف سرکاری حکام کے ساتھ ملاقاتیں اور اجلاس نہیں کرتے بلکہ یہ سرکاری حکام کے ساتھ ساتھ میزبان ملک کے عام شہریوں سے بھی ذاتی تعلقات قائم کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں۔ شہریوں کو دونوں ممالک کے مشترکہ مسائل اور مقاصد پر کام کے لیے آمادہ کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ سفارت کار میزبان ملک کے شہریوں کو اپنے ملک کے ’ثقافتی اقدار‘ سے بھی روشناس کراتے ہیں۔

 

اگر یہ تمہید آپ کو سمجھ نہیں آئی یا ہضم نہیں ہورہی تو پاکستان میں تعینات جرمن سفیر مارٹن کوبلر کی سرگرمیوں پر نظر ڈالیں۔ مارٹن کوبلر جدید سفارت کاری کے حقیقی ترجمان ہیں۔ ان کی سرگرمیاں اور میزبان ملک یعنی پاکستان کے مسائل پر گہری نظر اور ان کے حل کے لیے قابل عمل تجاویز دیکھ کر بالکل نہیں لگتا کہ وہ جرمن شہری ہیں۔ ایک عام آدمی اگر ان کے سوشل میڈیا اکاونٹ پر نظر ڈالے تو گمان ہوگا کہ یہ پاکستان کے کوئی سرگرم سماجی شخصیت ہیں۔

 

مارٹن کوبلر اپنے عوامی انداز کے بدولت پاکستان میں بہت زیادہ مقبول ہیں۔ ان کی مقبولیت کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اکثر اردو میں پیغامات شیئر کرتے ہیں اور جس علاقے میں جاتے ہیں وہاں کے کلچر میں مکمل طور پر رنگ جاتے ہیں اور وہاں کی سرگرمیوں کی تصاویر شومل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔ وہ کسی قسم تکلفات میں بھی نہیں پڑتے۔ کسی بھی ڈھابے پر جاکر مقامی لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر دال روٹی کھالیتے ہیں۔ ہر آدمی کے ساتھ اس کے ’لیول‘ پر اتر کر پیش آتے ہیں۔

 

پاکستان میں پانی کے بحران پر ہم پاکستانی اتنے فکرمند نہیں جتنے مارٹن کوبلر ہیں۔ آج سے کچھ عرصہ قبل مارٹن کوبلر نے ایک بالٹی پانی سے اپنی کار دھو کر پاکستانیوں کو پیغام دیا کہ پانی احتیاط سے استعمال کریں۔ اس کے بعد مارٹن کوبلر نے سوکھتے راول ڈٰیم کا رخ کیا اور وہاں سے ہمیں خبردار کیا کہ پانی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔

 

مارٹن کوبلر مسلمانوں کے مذہبی تہواروں کے موقع پر ان کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اپنے گھر میں افطار اور عید ملن پارٹی کا اہتمام کرتے ہیں اور خود چل کر کسی پڑوسی یا دوست کے گھر میں افطار میں شریک ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سوشل میڈیا پر اپنے فالوورز کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

 

جس شہر میں جاتے ہیں وہاں کے فالوورز سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اپنے فالوورز کو ملاقاتوں کے لیے مدعو کرتے ہیں اور اکثر ان کے نام لیکر سوشل میڈیا پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

 

آج کل مارٹن کوبلر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ شمالی علاقہ جات کی سیر پر نکلے ہیں۔ جہاں ہم اکثر پاکستانی جاکر پانی کی خالی بوتلیں اور پلاسٹک بیگ پھینک کر آجاتے ہیں لیکن مارٹن کوبلر نے وہاں سے بھی ہمارے لیے ایک دل چھو لینے والا پیغام بھیجا ہے۔  ہم پاکستانی مارٹن کوبلر کے شکر گزار ہیں کہ وہ ہم سے زیادہ ہمارے مسائل کو لیکر فکرمند ہیں اور ہمیں بھی جھنجھوڑتے رہتے ہیں۔