تین بار کے وزیراعظم نواز شریف دوسری بار گرفتار، اڈیالہ منتقل

Samaa Web Desk
July 14, 2018

Artwork: Uzair Mariwala

سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز کو گرفتار کرلیا گیا، طیارے میں موجود ن لیگی رہنماؤں کی جانب سے نیب ٹیم اور ایف آئی اے اہلکاروں کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، دونوں کو خصوصی طیارے سے اسلام آباد منتقل کردیا گیا، ایئرپورٹ سے نواز شریف اور مریم نواز کو اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔ دونوں کو احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں 10 اور 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

نیب ٹیم سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز کو لے کر خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچ گئی، ایئرپورٹ سے گرفتار مجرمان کو لے کر نیب ٹیمیں روانہ ہوئیں، اس موقع پر 2 بکتر بند سمیت کئی گاڑیاں بھی حفاظت کیلئے موجود تھیں جبکہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر جوڈیشل کمپلیکس پہنچ گئے، سہالہ ریسٹ ہاؤس کو سب جیل کا قرار دے دیا گیا، نوٹیفکیشن بھی جاری ہوگیا، پہلے خیال تھا کہ نواز شریف کو اڈیالہ جیل جبکہ مریم نواز کو سہالہ ریسٹ ہاؤس میں رکھا جائے گا، تاہم سابق وزیراعظم کو بیٹی سمیت اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

نوازشریف اور مریم نواز آج رات عام جیل میں گزاریں گے۔ اسپیشل کلاس کیلئے نواز شریف کو جج سے احکامات لینا ہوں گے جبکہ مریم نواز کو بہتر کلاس کا استحقاق نہیں کیونکہ انکے پاس کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں رہا۔ سرکاری عہدہ نہ رکھنے والوں کو 6 لاکھ سالانہ ٹیکس دینا لازم ہے اور بہتر کلاس کیلئے مریم نواز کو ثابت کرنا ہوگا کہ 6 لاکھ ٹیکس ادا کرتی ہیں۔

وزارت قانون و انصاف کی جانب سے بھی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل مل اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کا ٹرائل اب اڈیالہ جیل میں ہوگا۔

اڈیالہ جیل میں نوازشریف اور مریم نواز کا طبی معائنہ مکمل کرلیا گیا۔ میڈیکل بورڈ نے دونوں کو مکمل صحت یاب قرار دیا۔ میڈیکل ٹیم کے مطابق سفر کے باعث دونوں تھکاوٹ کا شکار ہیں۔

اختتام ریلی

نیب کی جانب سے نواز شریف اور انکی صاحبزادی کو اڈیالہ جیل بھیجے جانے کے بعد شہباز شریف نے لاہور میں ریلی کے اختتام کا اعلان کردیا۔

دھرم پورہ میں ریلی سے مختصر خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ آج آپ کا قائد نواز شریف آپ کے پاس لوٹ آیا ہے اور عوام نے بتا دیا کہ لاہور نواز شریف کا ہے۔ انہوں نے کارکنان سے کہا کہ 25 جولائی کو شیر پر نشان لگانا ہے۔

 ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر ن لیگ کے کارکنوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے، اس موقع پر پولیس اور کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی۔

پاکستان آنے سے بار بار روکا گیا، مریم نواز کا سماء کو خصوصی انٹرویو

سابق وزیراعظم کی بیٹی مریم نواز کہتی ہیں کہ بار بار پیغام دیا گیا کہ پاکستان نہ آئیں، کوئی ڈیل کرنی ہوتی تو مشکلات برداشت کرنے کی ضرورت نہیں تھی، نواز شریف نے قربانی دے کر اپنا کام کردیا، اب عوام کی بات ہے۔

مریم نواز نے سماء کو آخری انٹرویو میں کہا کہ کارکنوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ ووٹ کو عزت دو کی تحریک میں نواز شریف کا ساتھ دیا، نواز شریف نے ووٹ کی عزت کی تحریک، اپنے عوام اور ملک کی بہترین کیلئے بڑی قربانی دی ہے، نواز شریف نے اپنا قدم بڑھادیا، آپ کی خاطر اور ملک کے اچھے مستقبل کی خاطر واپس آرہے ہیں، انہوں نے اپنے حصے کا کام کردیا اب آپ کی باری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وہ بولیں کہ ہمیں بار بار پیغام دیا گیا کہ پاکستان واپس نہ آئیں، میاں صاحب فیصلہ کرچکے تھے، کوئی ڈیل کرنی ہوتی تو مشکلات برداشت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

نواز شریف کے استقبال کیلئے کارکنوں کی ریلی کی قیادت کرنے والے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا ہے کہ لوہاری گیٹ سے ریگل چوک پہنچنے میں 5 گھنٹے لگے ہیں، عوام کا جذبہ دیکھنے والا ہے، نیب کا دباؤ سامنے آتا رہا تو الیکشن داغدار ہوجائیں گے، اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

دوسری جانب لاہور میں ن لیگی کارکن مشتعل ہیں، پولیس کے ساتھ وقتاً فوقتاً جھڑپیں جاری ہیں، رینجرز اور پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شیلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ مظاہرین کی جانب سے سڑکوں پر آگ لگائی جارہی ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کو لاہور سے گرفتار کرکے خصوصی طیارے سے اسلام آباد پہنچایا گیا، طیارے میں سوار ہوتے ہوئے انہوں نے رن وے پر موجود لوگوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا، اس سے قبل سیکیورٹی افسران سے ن لیگ کے قائد کی کافی دیر بات چیت ہوئی، نمائندہ سماء کے مطابق وہ اپنے خصوصی معالج کو بھی ساتھ لے جانا چاہتے تھے تاہم انہیں اجازت نہیں دی گئی، مریم نواز نے طیارے میں سوار ہوتے ہوئے معالج کو بلانے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔

تین بار کے وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو ایون فیلڈ کیس میں عدالت سے سزا کے بعد ابوظہبی سے آنے والے طیارے سے نیب کی ٹیم اور ایف آئی اے اہلکاروں نے گرفتار کیا، مریم کو خواتین اہلکاروں نے حراست میں لیا، دونوں کو طیارے سے اتار لیا گیا، ایف آئی اے نے سابق وزیراعظم اور ان کی بیٹی کے پاسپورٹ بھی قبضے میں لے لئے۔

اس سے قبل نیب ٹیم اور ایف آئی اے اہلکاروں کو اکانوی کلاس سے بزنس کلاس میں آنے والے ن لیگی کارکنان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، تاہم نیب ٹیم نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے نواز شریف اور مریم نواز کو گرفتار کرلیا۔

نواز شریف اور مریم نواز کو خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد منتقل کیا جارہا ہے، جہاں سے انہیں نیب ٹیم اڈیالہ جیل لے کر جائے گی۔

نمائندہ سماء عباس شبیر کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ پر نیب کے مزید اہلکاروں کو طلب کرلیا گیا، نواز شریف اور مریم نواز کو اڈیالہ جیل یا سہالہ ریسٹ ہاؤس منتقل کیا جاسکتا ہے، جسے سب جیل قرار دیا جائے گا۔

)اس سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری کی غیر مصدقہ خبر ملی تھی، جسے نشاندہی پر درست کردیا گیا ہے(.

سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں 10 سال قید بامشقت اور 80 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ جبکہ ان کی بیٹی مریم نواز کو والد کے جرم میں معاونت اور جعلسازی کے الزام میں 7 سال قید اور 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی، کیپٹن (ر) صفدر کو بھی اس کیس میں ایک سال کی سزا سنائی گئی تھی، انہیں اتوار کے روز گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری کی خبر ملنے پر علامہ اقبال ایئرپورٹ کے باہر موجود کارکنوں میں اشتعال پھیل گیا، مشاہد اللہ خان سمیت دیگر رہنماؤں نے زبردستی ایئرپورٹ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی جسے سیکیورٹی اہلکاروں نے ناکام بنادیا، اس دوران اہلکاروں اور کارکنوں میں دھکم پیل بھی ہوئی۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں بھی مسلم لیگ ن کے کارکنوں مشتعل ہوگئے، پولیس سے جھڑپیں ہوئیں، مظاہرین نے سڑک پر آگ لگادی، پولیس کی جانب سے کارکنوں کو مشتعل کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری کی خبر ملنے پر علامہ اقبال ایئرپورٹ کے باہر موجود کارکنوں میں اشتعال پھیل گیا، مشاہد اللہ خان سمیت دیگر رہنماؤں نے زبردستی ایئرپورٹ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی جسے سیکیورٹی اہلکاروں نے ناکام بنادیا، اس دوران اہلکاروں اور کارکنوں میں دھکم پیل بھی ہوئی۔

اس سے قبل

سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کا طیارہ لاہور ایئرپورٹ پر اتر گیا، وہ ابو ظہبی سے نجی ایئر لائن کی پرواز ای ٹی ڈی 243 کے ذریعے لاہور پہنچے۔

نواز شریف اور مریم نواز طیارے میں کافی پرسکون نظر آئے، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ساتھ آنے والوں سے مسکرا کر باتیں کررہے ہیں۔

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا استقبال کرنے کیلئے ایئرپورٹ جانے کے خواہشمند کارکن اب بھی لاہور کی سڑکوں پر موجود ہیں، شہباز شری سمیت کئی رہنماء ریلیوں کی قیادت کررہے ہیں تاہم کنٹینرز کے ذریعے راستے بند ہونے کے باعث سیکڑوں افراد مختلف مقامات پر جمع ہیں۔

 واضح رہے کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں آمدن سے زائد اثاثوں پر نواز شریف کو 10 سال قید بامشقت اور 80 لاکھ پاؤنڈ جبکہ مریم نواز شریف کو اپنے والد کی جائیداد چھپانے میں معاونت پر 7 سال قید اور 20 لاکھ پاؤنڈ کی سزا سنائی گئی تھی۔

نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری کیلئے نیب کی ٹیمیں لاہور ایئرپورٹ کے اندر اور باہر موجود ہیں جبکہ پولیس اور رینجرز کے اہلکار بھی بڑی تعداد میں تعینات ہیں، سابق وزیراعظم اور صاحبزادی کو گرفتار کرکے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کیا جائے گا، جہاں ان کے داماد کیپٹن (ر) صفدر پہلے ہی موجود ہیں۔

نمائندہ سماء کے مطابق مسلم لیگ ن کے کچھ کارکنان ایئرپورٹ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تاہم سخت سیکیورٹی کے باعث وہ لاؤنج تک نہیں پہنچیں پائے۔

نواز مریم کا طیارہ لاہور کے قریب، کارکنوں اور پولیس میں جھڑپیں

نواز اور مریم کا طیارہ پنجاب میں داخل ہوگیا، لاہور سے صرف 15 منٹ کی دوری پر ہے، طیارہ لینڈ کرتے ہی دونوں کو گرفتار کرلیا جائے گا، علامہ اقبال ایئرپورٹ کے باہر اور لاہور شہر میں جگہ جگہ ن لیگی کارکن جمع ہیں، پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہورہی، کارکنان اپنے قائد کا استقبال کرنے کیلئے ایئرپورٹ جانے کیلئے کوشاں ہیں۔

نواز شریف اور مریم نواز کی گرفاری کیلئے نیب کی ٹیمیں اسلام آباد ایئرپورٹ اور اڈیالہ جیل پہنچ گئی، دونوں ٹیموں میں لیڈی آفیسرز بھی شامل ہیں جبکہ لاہور ایئرپورٹ پر بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے، سابق وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی کی گرفتاری کیلئے نیب کی ٹیم اور ہیلی کاپٹرز یہاں بھی موجود ہیں۔

لاہورایئرپورٹ کے قریب لیگی کارکنوں اور پولیس میں تصادم

لاہور ایئرپورٹ کے قریب لیگی کارکنوں اور پولیس میں تصادم ہوگیا، مظاہرین کی جانب سے ڈنڈوں، پتھروں اور کانچ کی بوتلوں کا استعمال کیا جارہا ہے جبکہ پولیس اہلکار مجمع کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور شیلنگ کررہی ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے کچھ کارکنان پولیس سے بچ کر ایئرپورٹ میں داخل ہوگئے۔

مال روڈ پر بھی مسلم لیگ ن کی ریلی جاری ہے، کارکنان شدید نعرے بازی کررہے ہیں، ریلی کے شرکاء نے علاقے میں لگے پاکستان تحریک انصاف کے پوسٹرز پھاڑ دیئے۔

نواز شریف اور مریم کا طیارہ پاکستانی حدود میں داخل

نواز اور مریم کا طیارہ پاکستانی حدود میں داخل ہوگیا، لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹ پر سیکیورٹی فورسز اور نیب کی ٹیمیں تیار ہیں، ن لیگی رہنماء سیکڑوں کارکنان کے ہمراہ علامہ اقبال ایئرپورٹ جانے کی کوشش کررہے ہیں، جگہ جگہ کنٹینرز اور رکاوٹیں ہونے کے باعث انہیں آگے بڑھنے میں مشکلات ہیں، کئی علاقوں میں پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔

فیروز والا میں جھڑپیں، پولیس کا لاٹھی چارج اور شیلنگ

لاہور کے علاقے فیروز والا میں ن لیگی کارکنوں اور پولیس میں تصادم ہوگیا، مظاہرین کو روکنے کیلئے پولیس نے شیلنگ کردی، علاقہ میدان جنگ بن گیا۔

نمائندہ سماء کے مطابق فیروز والا میں مظاہرین پولیس سے بھڑ گئے، اہلکاروں نے کارکنوں کو روکنے کیلئے شیلنگ اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، علاقہ میدان جنگ بن گیا، وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔

اڈیالہ جیل کے قریب ہیلی پیڈ قائم

اڈیالہ جیل کے قریب ہیلی کاپٹر اتارنے کیلئے ہیلی پیڈ قائم کردیا گیا، ارد گرد رینجرز اور پولیس کے اہلکا تعینات کردیئے گئے، نواز شریف اور مریم نواز کو ایئرپورٹ سے گرفتار کرکے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اڈیالہ جیل پہنچایا جائے گا۔

ن لیگی کارکنان ایئرپورٹ پہنچنا شروع، سیکیورٹی ہائی الرٹ

لاہور کے مختلف علاقوں سے مسلم لیگ ن کے کارکنان اپنے قائد نواز شریف کا استقبال کرنے کیلئے ایئرپورٹ پہنچنا شروع ہوگئے، سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔

مسلم لیگ کے سیکڑوں کارکنان مختلف راستوں سے رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے علامہ اقبال ایئرپورٹ پہنچنا شروع ہوگئے، نواز شریف کے متوالے پنجاب اسمبلی کے سامنے سے بھی رکاوٹیں عبور کرکے آگے بڑھ گئے۔

ذرائع کے مطابق لاہور ایئر پورٹ پر لیگی کارکنان کی آمد کے ساتھ ہی سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔

 خواجہ سعد رفیق کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کے کارکنان پر امن ہیں، آج لاہور والوں نے 25 جولائی کا فیصلہ سنادیا، عوام اپنے قائد کے استقبال کیلئے نکلے ہیں۔

گجرات میں تصادم، ایس ایچ او زخمی، درجنوں لیگی کارکن گرفتار

گجرات میں لیگی کارکنوں اور پولیس میں تصادم، لاٹھی چارج کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوگئے، کارکنوں سے تصادم کے دوران ایس ایچ او لالہ موسی شدید زخمی ہوگئے، سابق ایم پی اے شبیر کوٹلہ سمیت درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

پاکستان کو میدان جنگ بنادیا، انہیں رسوائی ملے گی، نواز شریف

نواز شریف کہتے ہیں پاکستان کو میدان جنگ بنادیا گیا، انہیں رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا، ہمیں سبز پاسپورٹ کی عزت کرانی ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف سے ابوظہبی سے لاہور روانگی کے وقت طیارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو میدان جنگ بنادیا ہے، انہیں رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا، کیا اب ہم نیب ویب سے گھبرائیں گے؟۔

 

وہ کہتے ہیں کہ 70 سال کی رسوائی سے باہر نکلنا ہے، ہم نے سبز پاسپورٹ کی عزت کرانی ہے۔

لیگی کارکن چیئرنگ کراس پہنچنے میں کامیاب

ن لیگی کارکن چیئرنگ کراس تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، رکاوٹیں ہٹانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، مال روڈ پر بھی سیکڑوں کارکنان موجود ہیں جو ایئرپورٹ جانے کی تیاری کررہے ہیں۔

آئی جی پنجاب کا تمام گرفتار سیاسی کارکنوں کی رہائی کا حکم

آئی جی پنجاب نے 400 سے زائد گرفتار سیاسی کارکنوں کی رہائی کا حکم دے دیا۔

آئی جی پنجاب نے  مسلم لیگ نے کے 400 سے زائد گرفتار کارکنوں کی رہائی کا حکم دے دیا، ترجمان کے مطابق احکامات ملنے کے بعد تھانوں سے کارکنوں کو رہا کیا جارہا ہے۔

نواز اور مریم کی بورڈنگ ہوگئی، ابوظہبی سے طیارہ روانگی کیلئے تیار

ابوظہبی ایئرپورٹ پر نواز شریف اور مریم نے بورڈنگ کروالی، طیارے میں سوار ہوگئے۔

نمائندہ سماء کوثر کاظمی کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز نے ابوظہبی سے پاکستان روانگی کیلئے ای وائے 243 طیارے کی بورڈنگ کروالی، دونوں طیارے میں سوار ہوگئے، کچھ ہی دیر میں طیارہ اڑان بھر لے گا، امکان ہے کہ پونے 8 بجے تک پرواز لاہور ایئرپورٹ پر لینڈ کرے گی۔

فیصل آباد میں ریلی کے راستے میں کنٹینر

فیصل آباد کینال روڈ پر ن لیگ کے سیکڑوں کارکنوں کو پولیس نے روک لیا، رانا ثناء اللہ بھی ہمراہ ہیں، کہتے ہیں کہ روڈ کھونے تک یہیں رہیں گے۔ انتظامیہ سے ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے جس پر کارکن واپس روانہ ہوگئے۔

ن لیگ کے کارکنوں کی پولیس سے جھڑپیں

کینال روڈ پر ن لیگ کے کارکنوں کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں، کارکنان نے کرین کی مدد رکاوٹیں ہٹادیں، ریلی مال روڈ کی جانب روانہ ہوگئی، قافلے کے ہمراہ کرین بھی چل رہی ہے۔

راستہ روکا گیا تو کوئی کنٹرول میں نہیں آئے گا، شہباز شریف

مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کہتے ہیں کہ ہمارا راستہ کوئی نہیں روک سکتا، راستہ روکنے کی کوشش ہوئی تو کوئی کنٹرول میں نہیں آئے گا۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے لوہاری گیٹ پر سماء کے اینکر ندیم ملک سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایئرپورٹ ہر صورت جائیں گے، کوئی ہمارا راستہ نہیں روک سکتا۔

 انہوں نے واضح کہا کہ کارکنوں کے جذبات کنٹرول کرنے کی کوشش کررہا ہوں، اگر راستہ روکا گیا تو کوئی کنٹرول میں نہیں آئے گا، جس راستے سے اللہ لے جائے گا اس سے چلے جائیں گے۔

شہباز شریف کے ساتھ قافلے میں سیکڑوں کارکنان بھی شامل ہیں، جو اپنے قائد نواز شریف کے استقبال کیلئے لاہور ایئرپورٹ جانا چاہتے ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف ایون فیلڈ ریفرنس میں ملنے والی 10 سال کی سزا پر گرفتاری دینے کیلئے آج شام پاکستان پہنچ رہے ہیں، ان کے ہمراہ مریم نواز بھی ہوں گی۔

سڑکوں کی بندش سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا

سماء کے نمائندہ جہانگیر خان کے مطابق، پنجاب پولیس نے امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے نام پر شہر میں جگہ جگہ سڑکوں کو بند کردیا ہے۔ شہر میں لوکل ٹرانسپورٹ کا بھی شدید فقدان ہے۔

بیریئر کی وجہ سے لوگوں کو پیدل سفر کرنا پڑرہا ہے۔ ایک رکشہ ڈرایور کے مطابق، لوگ شدید پریشان ہیں۔ 

فیصل آباد میں چک جھمرہ سے آنے والی ریلی روک لی گئی

فیصل آباد کی تحصیل چک جھمرہ سے سابق ایم پی اے رانا علی عباس اور میاں منان کی قیادت میں آنے والی ریلی کو ساہیانوالہ انٹرچینج پر روک لیا گیا ہے۔

فیصل اؓباد میں ساہیانوالہ انٹرچینج پر موجود سماء کی نمائندہ شاہین شہزادی کے مطابق، شہر میں ہر طرف کنٹینرز لگے ہوئے ہیں۔ پولیس کی بھاری نفری یہاں تعینات ہے۔کارکنان نعرے بازی کررہے ہیں۔

نواز شریف کے ساتھ یکجہتی دکھائیں گے، پرویز رشید

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء پرویز رشید کہتے ہیں کہتے کہ قائد نواز شریف کے ساتھ یکجہتی دکھائیں گے۔

لوہاری جاتے ہوئے سماء کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے ایئرپورٹ پر اور ہر جگہ نواز شریف کے ساتھ یکجہتی دکھانی ہے۔ جیل جاکر بھی انکے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان آج نواز شریف کے ساتھ ہے اس لیے حکمرانوں کو پورا ملک بند کرنا پڑا ہے۔

ہماری اخلاقی فتح ہوچکی ہے، مشاہد حسین

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء مشاہد حسین کہتے کہ ن لیگ کی اخلاقی فتح ہوچکی ہے۔

سماء کے نمائندے کے سوال پر کہ آپ لوہاری جارہے ہیں اور بڑے خوش دکھائی دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ لوگوں کے حوصلے بلند ہیں مورال ہائی ہے۔

مشاہد حسین نے کہا کہ حکمرانوں نے خوف سے پورا لاہور بند کردی ہے۔ اس طرح ہماری اخلاقی فتح ہوچکی ہے۔ سارے کارکن پوری طرح چاک و چوبند ہیں۔

فیصل آباد میں کارکنوں کے لیے بریانی آگئی

فیصل آباد میں ن لیگی رہنماء حامد رشید نے کارکنوں کے لیے بریانی منگا لی۔

موقع پر موجود سماء کے نمائندے شاہین شہزادی کے مطابق، کارکن صبح سے یہاں موجود ہیں۔ لیگی کارکن کے لیے سڑک پر ہی بریانی کی دعوت کھول دی گئی۔

ن لیگی قافلے کو کامونکی ٹول پلازہ پر روک لیا گیا

گجرانوالہ سے لاہور آنے والے ن لیگی قافلے کو پولیس نے کامونکی ٹول پلازہ پر روک لیا ہے۔ کارکنوں نے گاڑیوں سے باہر آکر شدید نعرے بازی کی۔

موقع پر موجود محسن خالد کے مطابق، گجرانوالہ سے چھ قافلے روانہ ہوئے تھے جن کو کامونکی ٹول پلازہ پر روک لیا گیا ہے۔ یہاں راستے کو کنٹینرز اور ٹرکوں سے بلاک کیا گیا ہے۔

ٹول پلازے پر رینجرز بھی تعینات ہے۔ کارکنوں نے گاڑیوں سے باہر آکر شدید نعرے بازی کی اور ایک کرین کی مدد سے رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد قافلہ یہاں سے روانہ ہوا ہے۔

ڈیفنس سے ایئر پورٹ جانے والا راستہ بند کردیا گیا

لاہور میں ڈیفنس کے علاقے سے ایئر پورٹ جانے والا راستہ بند کردیا گیا ہے۔ جس سے شہریوں کو آمدورفت میں پریشانی کا سامنا ہے۔ جبکہ ن لیگی کارکنان اپنے قائد نواز شریف کے استقبال کے لیے پرجوش ہیں۔

کارکنان کا کہنا ہے  کوئی رکاوٹ انہں ایئرپورٹ جانے سے نہیں روک سکتی۔ بھٹہ چوک پر موجود سماء کے نمائندے محمد علی جڑھ کے مطابق، ڈیفنس سے ایئرپورٹ جانے والا راستہ کنٹینرز اور خاردار تاروں سے بلاک کردیا گیا ہے۔

رکاوٹوں کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کیونکہ آس پاس کی آبادیوں کو شہر سے ملانے والا یہ ایک ہی راستہ ہے۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ پکڑ دھکڑ سے نہیں ڈرتے۔ وہ ضرور نواز شریف کا استقبال کرنے جائیں گے۔

سب تیار رہیں، پاکستان آرہا ہوں، نواز شریف

سابق وزیراعظم نواز شریف نے ابوظبی ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب تیار رہیں میں پاکستان آرہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں تو اپنا کام کررہا ہوں اگرچہ مجھے اپنے لوگوں سے رابطہ کرنے سے روکا جارہا ہے۔ میں اپنی جدوجہد کو اسکی آخری حد تک لے کر جارہا ہوں۔

نواز شریف نے کہا میں نے جو کام کرنا تھا کردیا ہے۔ ووٹ کو عزت دو مہم کے لیے میں خود پاکستان پہنچ رہا ہوں۔ میں پاکستان کی آنے والی نسلوں کے لیے آرہا ہوں۔ میں وہ قرض چکانے آرہا ہوں جو مجھ پر واجب ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ قرض آپ پر بھی واجب ہے۔

نوازشریف اور مریم کسی صورت ائرپورٹ سے باہر نہ آئیں

وفاقی وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ نواز شریف اورمریم نواز کسی صورت لاہور ائرپورٹ سے باہر نہ آنے پائیں۔ پرواز کی لینڈنگ علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ پر شام سوا چھ بجے شیڈول تھی جو اب دو گھنٹے تاخیرکاشکار ہے۔ پنجاب حکومت کو وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات کے مطابق دونوں مجرموں کو کسی صورت ائیرپورٹ سے باہرنہیں نکلنے دیا جائے گا۔

شہبازشریف کی قیادت میں ن لیگی کارکن اور رہنما ائرپورٹ جانے کیلئے تیار

نواز شریف اور مریم نواز کے استقبال کیلئے لیگی رہنما لوہاری گیٹ پہنچنا شروع ہوگئے ہیں ۔کارکنوں کی بڑی تعداد پہلے ہی مسلم مسجد کے باہر موجود ہے جہاں سے شہبازشریف کی قیادت میں ریلی کا آغاز ہوگا۔ حمزہ شہباز، سائرہ افضل تارڑ، عظمیٰ بخاری سمیت کئی لیگی رہنما بھی موجود ہیں۔

شہباز شریف کی للکار

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ نوازشریف چند گھنٹوں میں ایئرپورٹ پہنچنے والے ہیں ، کارکن ایئرپورٹ جانے کےلیے بے تاب ہیں، عوام جمعہ کے بعد میرے ساتھ چلیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اندرون شہرموجود ہوں میرے علم میں ہے ارد گرد بےشمار دنیا اکٹھی ہورہی ہے،کارکن ایئرپورٹ پرجانے کےلیے بے تاب ہیں۔

میٹرو سروس

سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی آمد سے قبل لاہور اور اسلام آباد میں سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں جب کہ لاہور میں میٹرو بس سروس بھی معطل ہے۔ سی ٹی او لیاقت علی ملک کاکہنا ہے کہ مسافروں کو ایئر پورٹ تک پہنچانے کے لیے شٹل سروس فراہم کی جائے گی اور ایئرپورٹ تک صرف فضائی مسافروں کو جانے کی اجازت ہوگی۔ میٹرو بس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کشیدہ صورتحال کے باعث بس سروس دن بھر بند رہے گی۔

نیب ٹیم یو اے ای پہنچ گئی

نا اہل وزیراعظم نواز شریف اور صاحبزادی مریم نواز کی ممکنہ گرفتاری کیلئے نیب کی خصوصی ٹیم پاکستان سے ابوظبی پہنچ گئی ہے۔ نیب کے مطابق نیب کی 3 رکنی ٹیم نواز شریف کے ہمراہ جہاز پر واپس آئے گی۔ طیارہ پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی نواز شریف کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نیب ٹیم طیارے میں ہی نواز شریف اور مریم نواز کو گرفتار کر لے گی۔

 

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے مرکزی آفس سکستھ روڈ پر پولیس کی نفری تعینات کردی گئی۔ ممکنہ گرفتاریوں کے پیش نظرقیدی وین بھی پہنچا دی گئی۔ راول پنڈی کے لیگی صدر سردار نسیم نے جمعہ کے روز ریلی کا اعلان کر رکھا ہے۔ ریلی کو براستہ موٹر وے میاں نواز شریف کے استقبال کے لئے لاہورروانہ ہونا تھا۔ راول پنڈی پولیس نے گزشتہ رات ن لیگ کے متعدد کارکنوں کو حراست میں بھی لیا

موبائل فون سروس بند

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے لاہور کے مختلف علاقوں میں موبائل فون سروس تین بجے سے پہلے ہی بند کردی گئی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) حکام کے مطابق لاہور کے مختلف علاقوں میں موبائل فون سروس جمعہ کے روز دوپہر 3سے رات11بجے تک بند ہونا تھی، تاہم انتطامیہ کی جانب سے نماز جمعہ سے قبل ہی موبائل فون سروس بند کردی گئی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نگراں حکومت پنجاب کی درخواست پر لاہور کے مختلف علاقوں میں موبائل فون سروس، موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ پی ٹی اے حکام کے مطابق لاہور ایئرپورٹ کے اطراف موبائل فون سروس معطل رہے گی، جب کہ لاہور کے علاقے شاہدرہ، برکی، نواب ٹاؤن، لاہوری گیٹ،ماڈل ٹاؤن، گلبرگ، ڈیفنس اور کینٹ میں بھی موبائل سروس بند کی گئی ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق موبائل فون سروس سیکیورٹی خدشات کے باعث بند کی جا رہی ہے۔ تاہم متعدد علاقوں سے انٹرنیٹ سروس بند ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

ایئرپورٹ جانے والے مسافروں کیلئے ضروری ہدایت

پی آئی اے نے آج لاہور ایئر پورٹ سے فضائی سفر کرنے والوں کو وقت سے 6 گھنٹے پہلے ایئر پورٹ پہنچنے کا مشورہ دیا ہے۔

اسی دوران چیئرمین نیب نے آج نیب کا ہنگامی اجلاس بلا لیا ہےجس میں چیئرمین نیب ذاتی طور پر نوازشریف اور مریم نواز کی گرفتاری کے امور کا جائزہ لیں گے۔

 

نواز شریف اور مریم کا طیارہ جمعہ 13 جولائی کی شام سوا 6 بجے لاہور کے علامہ اقبال ایئرپورٹ پر لینڈ کرے گا۔ وہ گزشتہ شام ہیتھرو ایئر پورٹ سے روانہ ہوئے تھے۔ مسلم لیگ ن کے کئی کارکن اور رہنما بھی ان کے ساتھ پاکستان آ رہے ہیں۔ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس سے نوازشریف اور مریم کی روانگی سے قبل عزیز و اقارب کی آنکھیں اشکبار نظر آئیں۔ نواز شریف نے حسین نواز، اسحاق ڈار کو گلے لگایا۔ دونوں نے نواز شریف کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مریم نواز کے بچے بھی موجود تھے۔ مریم نواز بھی اپنے بچوں سے ملتے وقت آبدیدہ ہو گئیں۔

اڈیالہ جیل منتقلی

امکان ہے کہ سیکیورٹی حکام انہیں گرفتار کرکے ہیلی کاپٹر کے ذریعے براہ راست اڈیالہ جیل لے جائیں گے۔ ‏نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری کے لیے دو ہیلی کاپٹر لاہور ایئرپورٹ پر پہنچا دیئے گئے ہیں۔ طیارے کو لاہور ایئر پورٹ پر اترتے ہی ایئر پورٹ سکیورٹی، سول ایوی ایشن اور ایلیٹ کمانڈوز اپنے حصار میں لیں گے۔ نیب کی ٹیم کو لیڈی کمانڈوز کی خدمات بھی حاصل ہیں۔ نواز شریف کی متوقع گرفتاری اور اڈیالہ آمد پر اسلام آباد کے کارکنان بھی موٹروے چوک پہنچیں گے۔

 

سابق وزیرِاعظم میاں نواز شریف اور مریم پاکستانی وقت کے مطابق رات تقریباً ایک بجے لندن سے متحدہ عرب امارات کیلئے روانہ ہوئے۔ دونوں لیگی رہنما نجی ایئرلائن کی پرواز ای وائے 0018 سے روانہ ہوئے۔ نواز شریف اور مریم نواز ابوظہبی میں 7 گھنٹے قیام کریں گے اور جمعہ کی شام لاہور ایئرپورٹ پہنچیں گے۔ دونوں کی گرفتاری کیلئے نیب کی دو، دو ٹیمیں لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹ پر تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

شہباز شریف کی قیادت میں ریلی

مسلم لیگ ن کے صدر اور نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف، مجرم نواز شریف اور مریم نواز کے استقبال کیلئے ریلی کی قیادت کریں گے۔ مسلم لیگ ن کے کارکن نماز جمعہ کے بعد مسلم مسجد لوہاری گیٹ کے باہر جمع ہوں گے اور شہبازشریف کی قیادت میں ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوں گے۔ دوسری جانب ن لیگی کارکنوں کو ایئرپورٹ جانے سے روکنے کیلئے پولیس حکام نے مسلم لیگ ن کے 300 سے زائد کارکنان کو گرفتار کرلیا اور انہیں امن و امان کا قیام (پبلک آرڈر آرڈیننس) یقینی بنانے کیلئے جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ابو ظہبی روانگی سے قبل میڈیا سے مختصر گفت گو میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ جن حالات میں ہم واپس جا رہے ہیں کوئی نہیں جاتا لیکن ہم پاکستان اور عوام کے لئے وطن جا رہے ہیں، مریم بھی اپنی والدہ کو بیماری کی حالت میں چھوڑ کر جا رہی ہیں، یہ ہو سکتا تھا کہ مریم نہ جاتی لیکن ہمارا مقصد عظیم ہے، مجھے یقین ہے کہ پاکستانی قوم ہمارا ساتھ دے گی۔