مسلم لیگ ن کے کارکنان اور رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے، سعد رفیق

SAMAA | - Posted: Jul 12, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 12, 2018 | Last Updated: 3 years ago

مسلم ليگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی آمد سے قبل انتظامیہ نے ہمارے کارکنان اور رہنماؤں کی اچانک گرفتارياں شروع کردي، ہمارا مطالبہ ہے کہ انہيں فوري رہا کيا جائے۔ ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکریٹریٹ میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے...

مسلم ليگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی آمد سے قبل انتظامیہ نے ہمارے کارکنان اور رہنماؤں کی اچانک گرفتارياں شروع کردي، ہمارا مطالبہ ہے کہ انہيں فوري رہا کيا جائے۔


ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکریٹریٹ میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کارکنوں کو گرفتار کرکے کوٹ لکھپت جیل بھیجا جارہا ہے، حکومت کارکنوں کو بلاجواز گرفتار کرکے اشتعال پیدا کر رہی ہے، ایئر پورٹ بھی ہمارا ہے، ہم سوچ نہیں سکتے ایک پتھر یا شیشہ بھی توڑیں، نگران وزیر اعلی پنجاب ہمارے کارکنوں کی گرفتاریاں بند کرکے فوری رہا کریں۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ انتظاميہ نے ہماري درخواست کا کوئي جواب نہيں ديا، بلکہ اچانک کارکنان اور رہنماؤں کي گرفتاري شروع کردي۔ ہم پرامن لوگ ہيں اور شہر کا امن قائم رکھنا چاہتے ہيں۔ انکا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی قیادت میں تیرہ جولائی کو ایئر پورٹ جا کر نواز شریف کا تاریخی استقبال کریں گے، معلوم نہیں نگران وزیر اعلٰی پنجاب کو گرفتاریوں کا مشورہ کس نے دیا، حکومت خود اشتعال انگیز کارروائیاں کر رہی ہے۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ اگر مجھے کسی نے گرفتار کرنا ہے تو کر لے، میں پہلی بار گرفتار نہیں ہوں گا مگر اسکے نتائج کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ آزادی رائے، آزادی تقریر اور آزادی اظہار پر کوئی پابندی نہیں ہے، ہم سیکیورٹی کے تمام اصولوں کی پابندی کرنا جانتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں عام انتخابات ہو رہے ہیِں، کوئی نہیں چاہتا کہ کوئی بگاڑ پیدا ہو، نہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے نہ اسکو متنازعہ بنائیں گے۔

سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ہميں تو پہلے ہي نگراں وزيراعليٰ کي تقرري پر تحفظات تھے اور آپ جو کرناچاہ رہے ہيں اس پر تاريخ آپ کو کبھي معاف نہيں کرے گي۔ سارے ايکشن کا ذمہ دار نگراں وزير اعليٰ کو ٹہراتا ہوں۔ انکا کہنا تھا کہ آپ کي حکومت صرف دو ماہ کے ليے ہے، اس ليے خبردار کرتا ہوں کہ باز آجائيں اور ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرکے دکھائيں۔ ايسي فضا نہ پيدا کي جائے جس سے ملک اور صوبے کو نقصان پہنچے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی اعلٰی قیادت آج اجلاس کرے گی جسکے بعد اگلا لائحہ عمل دیا جائے گا۔

گرفتاریاں اور احتجاج

لاہور ميں رات گئے پوليس نے مسلم ليگ ن کے ورکرز کو پارٹي دفاتر سے گرفتار کرلیا۔ کارکنان اپنے قائد نواز شريف کي جمعہ کے روز آمد اور ائير پورٹ جانے کے حوالے سے تيارياں کر رہے تھے۔

تھانہ شفيق آباد اور اسلام پورہ کي حدود سے بڑي تعداد ميں يو سي چيرمين سميت درجنوں کارکنوں کو حراست ميں ليا گيا جس کے بعد مسلم ليگ ن کے کارکنان کي بڑي تعداد تھانہ شفيق آباد، گرين ٹاون اور اسلام پورہ تھانہ پہنچ گئي اور پوليس کے خلاف احتجاج کيا۔ گرفتار ہونے والوں میں يوسي 59، يوسي 65، يوسي 66 کے چيئرمين شامل ہیں۔

مسلم ليگ ن کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر بلال يسين بھي احتجاج ميں شامل ہوتے ہوئے اپنے کارکنوں کو چھڑوانے تھانہ شفيق آباد پہنچے۔ اب تک درجنوں کارکنان کو حراست ميں ليا جا چکا ہے۔

ن ليگی کارکنان اپنے قائد نواز شريف کي جمعہ کے روز آمد اور ائير پورٹ جانے کے حوالے سے تيارياں کر رہے تھے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube