ہارون بلور کی شہادت، پی کے 78 میں الیکشن ملتوی

Ambreen Sikander
July 11, 2018

پشاور کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 78 میں انتخابات ملتوی کردیئے گئے ہیں۔ انتخابات منگل کی رات ہونے والے خود کش دھماکے میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہارون بلور کی شہادت کے باعث ملتوی کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پی کے 78کا الیکشن ملتوی کردیا گیا ہے۔ کے پی 78کے ملتوی انتخابات یکہ توت کے علاقے میں ہارون بلور کی شہادت کے باعث کیے گئے ہیں۔ ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق پی کے 78 میں اب الیکشن ضمنی ہوگا، سانحہ میں شہادت یا امیدوار کا انتقال ہونے پر انتخابات ملتوی ہوجاتا ہے۔

 

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پی کے 78کے انتخابات کے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر جسٹس رتائرڈ سردار محمد رضا نے ہارون بلور پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ سیکورٹی اداروں کی کمزوری اور شفاف الیکشن کے خلاف سازش ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تمام صوبائی حکومتوں کو امیدواروں کو یکساں سیکیورٹی فراہم کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔

امیدواروں کو سیکیورٹی خطرات سے متعلق 25 جون کو اجلاس میں تمام چیف سیکریٹریز اور آیئ جیز کو امیدواروں کی سیکورٹی سے متعلق احکامات دئیے گئے۔ یکم جولائی کو چاروں وزرائے اعلی اور چیف سیکریٹریز کو امیدواروں کی فُول پروف سیکورٹی کے لیے دوبارہ ہدایات دی گئیں ۔

 

واضح رہے کہ منگل کو رات گئے پشاور کے علاقے یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی انتخابی مہم کے دوران خودکش حملے میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار اور بشیر بلور کے صاحبزادے ہارون بلور سمیت 20 افراد جاں بحق،جب کہ 53 سے زائد زخمی ہوئے۔

 

سی سی پی او پشاور قاضی جمیل کے مطابق ہارون بلور کی کارنر میٹنگ کے دوران خودکش حملہ ہوا۔ اس سے قبل ے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اے آئی جی شفقت ملک کا کہنا تھا کہ 'ابتدائی تفتیش کے مطابق حملہ خودکش تھا اور اس کا نشانہ ہارون بلور تھے'۔

 

کارنر میٹنگ کے منتظم اور عینی شاہد کا کہنا تھا کہ ہارون بلور کارنر میٹنگ سے خطاب کے لیے جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو کارنر میٹنگ کے مقام پر پہلے سے موجود خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خود کش حملہ آور کا سر ہمارے گھر کی چھت پر آگرا تھا۔

 

پولیس کا کہنا تھا کہ دھماکے کا نشانہ اے این پی کے امیدوار ہارون بلور ہی تھے جبکہ جلسہ گاہ میں ان کے بیٹے دانیال بلور بھی ان کے ہمرا تھے تاہم وہ محفوظ ہیں۔ افتخار حسین کا کہنا تھا کہ ہارون بلور کی نماز جنازہ وزیر باغ پشاور میں بدھ شام 5 بجے ادا کی جائے گی۔

 

خیال رہے کہ ہارون بلور پشاور میں 2012 میں انتخابی مہم کے دوران خود کش دھماکے کا نشانہ بننے والے اے این پی کے سینیر رہنما بشیر بلور کے صاحبزادے تھے اور پشاور سے صوبائی اسمبلی پی کے 78 سے امید وار تھے، اس کے علاوہ ہارون بلور اے این پی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات بھی تھے۔

 

یاد رہے کہ 7 جولائی کو کے پی کے ضلع بنوں کے علاقے تختی خیل میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے انتخابی امیدوارکے قافلے پر بم دھماکے سے امیدوار سمیت 7 افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل 3 جولائی کو شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں بھی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 48 میں پی ٹی آئی کے امیدوار کی انتخابی مہم کے دوران دھماکے کے نتیجے میں 10 افراد شدید زخمی ہوگئے تھے۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے یکم جولائی کو اپنے ایک خط میں عام انتخابات اور اُمیدواروں کی سیکیورٹی پر تحفظات کا اظہار کردیا تھا۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ نگراں صوبائی حکومت، انتظامیہ اور پولیس شفاف اور پرامن انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس خط کی کاپی دیگر 3 صوبوں کے وزراء اعلیٰ اورچیف سیکریٹریز کو بھی ارسال کی گئی تھیں۔