پشاور میں دھماکا، اے این پی امیدوار ہارون بلور سمیت 13 افراد شہید

Samaa Web Desk
July 10, 2018

پشاور کے علاقے یکہ توت میں اے این پی کی کارنر میٹنگ کے دوران خود کش دھماکے میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے امیدوار ہارون بلور سمیت 13 افراد جاں بحق اور 53 سے زائد زخمی ہوگئے، زخمیوں میں 13 افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

سماء کے مطابق پشاور کے علاقے یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی کارنر میٹنگ کے دوران دھماکا ہوا، واقعے میں پی کے 78 سے امیدوار ہارون بلور سمیت 13 افراد جاں بحق اور 53 سے زائد زخمی ہوگئے. ہارون بلور کے 16 سالہ بیٹے دانیال دھماکے کے وقت جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے تاہم حادثے کی اطلاع ملتے ہی وہ کارکنان کے ساتھ پہنچ گئے تھے۔

دھماکے کے بعد فورسز اور ریسکیو ٹیمیں علاقے میں پہنچ گئی، امدادی کارروائیاں جاری ہیں، زخمیوں اور جاں بحق افراد کی لاشوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، بم ڈسپوزل اسکواڈ نے دھماکے کو خودکش حملہ قرار دیا ہے۔ فورسز نے دھماکے کے مقام کو گھیرے میں لے لیا، شواہد اکٹھے کئے جارہے ہیں۔

نمائندہ سماء سجاد حیدر کے مطابق ریسکیو حکام کے مطابق دھماکے میں شہید ہونیوالوں کی تعداد 15 ہے جبکہ اسپتال لائے گئے زخمیوں کی تعداد 40 سے زائد ہے، جن میں متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔

سی سی پی او پشاور قاضی جمیل نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکا خود کش تھا جس میں تقریبا آٹھ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

اے این پی رہنما شہید ہارون بلور کی نماز جنازہ آج بروز بدھ شام پانچ وزیر باغ پشاور میں ادا کی جائے گی اور انہیں ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

پارٹی رہنماوں کے تبصرے

اے این پی رہنماء اورنگزیب خان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ہارون بلور کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی، پی کے 78 سے امیدوار ہارون بلور کو اپنے گھر کارنر میٹنگ کیلئے مدعو کیا تھا، پروگرام میں 500 کے قریب افراد موجود تھے، ہارون بلور پہنچے تو میں انہیں لے کر جلسہ گاہ میں آیا اور اسٹیج کی طرف چلا گیا، اس دوران بمبار نے خودکش حملہ کیا، جس کا سر میرے گھر کی چھت سے پولیس نے قبضے میں لے لیا۔

اے این پی کے سینیئر رہنما میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ واقعہ دہشت گردی اور ظلم ہے، کچھ عناصر الیکشن کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی۔

حملے کی مذمت

پشاور میں انتخابی امیدوار پر حملے پر نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، سربراہ جمعیت علما اسلام مولانا فضل الرحمن اور امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے مذمت اور اے این پی رہنماء کی شہادت پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا خان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکا شفاف الیکشن کے خلاف سازش ہے، ہم نے واضح کیا تھا کہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

واضح رہے کہ ہارون بلور کے والد اور اے این پی کے سینئر رہنماء بشیر بلور 22 دسمبر 2012ء کو خودکش حملے میں شہید ہوگئے تھے۔

سماء کے اینکر شہزاد اقبال کے مطابق انہوں نے پشاور دھماکے سے کچھ دیر قبل اے این پی رہنماء غلام احمد بلور سے گفتگو کی، ان کا کہنا تھا کہ غلام احمد بلور نے انتخابی مہم اور حالات پر اطمینان کا اظہار کیا تھا، وہ بہت پرامید تھے۔