آغا سراج درانی کی ووٹرز کو دھمکیاں، انتہائی شرمناک زبان کا استعمال

Samaa Web Desk
July 9, 2018

شکارپور میں سابق اسپیکر سندھ اسمبلی اور پی پی رہنماء آغا سراج درانی نے ووٹرز پر چڑھائی کردی، کہتے ہیں کہ تھوڑی سی بھی غیرت ہے تو پیپلز پارٹی کو ووٹ دو، ووٹر چپ چاپ سنتے رہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کو عوام نے مسترد کردیا، اب بھٹو کے نام پر ووٹ لینے کی سیاست نہیں چلے گی۔

سماء کو موصول ہونیوالی ویڈیو میں دیکھا اور سنا جاسکتا ہے کہ سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے انتخابی جلسے سے خطاب کیا، اس موقع پر انہوں نے ووٹرز اور علاقہ مکینوں کیلئے دھمکی آمیز اور شرمناک زبان استعمال کی۔

ووٹرز پر چڑھائی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رزق پیپلزپارٹی دے اور آپ لوگ ووٹ کسی اور کو دو، تھوڑی بھی غیرت اور اپنے باپ کی اولاد ہو تو پی پی کو ووٹ دو، پیپلزپارٹی کو ووٹ نہ دیا تو لاشیں گرتی رہیں گی۔

آغا سراج کی باتیں ووٹرز چپ چاپ سنتے رہے، وہ بولے کہ اگر پی پی کو ووٹ نہ دیا تو لعنتی ہو جاؤ گے، لوگ ہمیشہ آپ پر لعنتیں کریں گے۔

اس سے قبل پی پی پی رہنماء اور سابق صدر کی بہن فریال تالپور نے بھی ووٹرز سے خطاب میں دھمکی آمیز زبان استعمال کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ کان کھول کر سن لو ووٹ دینا ہے تو پیپلزپارٹی کو دینا ہے۔

پی ٹی آئی ترجمان فواد چوہدری نے سراج درانی کی گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ رزق تو اللہ دیتا ہے، پیپلزپارٹی سندھ کی آج کی قیادت میں کوئی ٹکٹ بلیک کرتا تھا، کوئی کلرک، سپاہی، ٹھیکدار اور میٹر ریڈر تھا، آج ارب پتی بنے بیٹھے ہیں، ان لوگوں کو لگتا ہے کہ جو پیپلزپارٹی کو ووٹ نہیں دے گا وہ بے غیرت ہوگا۔

مسلم لیگ فنکشنل کی رہنماء نصرت سحر عباسی نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے آغا سراج درانی کے لب و لہجہ اور الفاظ کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ سندھ کے عوام اور ووٹرز ان کے پیر کی جوتی ہیں، ان کے دماغوں میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ ان کے خوف، دہشت اور ڈر کے باعث لوگ انہی کو ہی ووٹ دیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ آغا سراج درانی نے لوگوں کو دھمکیاں دیں، پیپلزپارٹی کی حالت اس وقت خراب ہوچکی ہے، پی پی رہنماؤں کو ان کے علاقوں کے عوام نے مسترد کردیا ہے، پیپلزپارٹی زرداری لیگ بن چکی ہے، ان لوگوں کے اثاثے کئی کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔

نصرت سحر عباسی نے کہا کہ یہ سمجھتے ہیں کہ بھٹو کے نام پر لوگ انہیں ووٹ دیتے ہیں گے اور حکمرانی کرنے کا حق صرف ان کے پاس ہے، عوام جان گئے کہ یہ لوگ صرف روٹی، کپڑا اور مکان کے نام پر بے وقوف بناتے ہیں، اب بھٹو کے نام پر ووٹ لینے کی سیاست نہیں چلے گی۔