پاٹا کے خاتمے کے خلاف پورے ملاکنڈ ڈویژن میں شٹر ڈاون ہڑتال

July 6, 2018

آئیں میں 31 ویں ترمیم سے ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت''پاٹا'' کے خاتمے کے خلاف ملاکنڈ کے تمام اضلاع سوات، دیر بالا، لوئر دیر، شانگلہ، بونیر، ضلع ملاکنڈ اور چترال میں مکمل شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی جس کی وجہ سے سوات کے مینگورہ شہر اور تمام تحصیلوں کے چھوٹے بڑے بازار مکمل بند رہے۔

یاد رہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع کا شمار ’صوبے کے زیر اہتمام قبائلی علاقوں‘ میں ہوتا تھا۔ یہ اضلاع ٹیکس فری زون میں شامل تھے۔ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضما کے بعد پاٹا کی  ’خصوصی آئینی حیثیت‘ بھی ختم کردی گئی جس کے بعد ملاکنڈ ڈویژن ٹیکس نیٹ میں شامل ہوجائے گا۔

گزشتہ برس صوبائی حکومت نے پاٹا کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے وفاق کو سمری ارسال کی تھی تاہم عوامی ردعمل کے باعث سمری واپس لے لی گئی تھی۔

سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے اس موقع پر کہا کہ پہلے مرحلہ میں ڈویژن بھر میں مکمل اور کامیاب شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی اور اگر اس کے باوجود ملاکنڈ ڈویژن کی ''پاٹا'' کی حیثیت کو بحال نہ کیا گیا تو دوسرے مرحلے میں ہر ضلع کی سطح پر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔ تیسرے مرحلے میں سول نافرمانی کی تحریک شروع کی جائے گی۔

ضلع ملاکنڈ کی دونوں تحصیلوں تحصیل بٹ خیلہ اور تحصیل درگئی میں بھی پاٹا کی حیثیت کے خاتمے کے خلاف مکمل شٹر ڈائون ہڑتال رہی۔ دیر بالا میں تمام کا رو باری مرا کز بند رہے اور پہیہ جام ہڑ تا ل کی گئی۔ بٹ خیلہ میں شٹر ڈائون ہڑتال کے باعث تمام بازارمیڈیسن سٹور اور ہوٹل بھی بند رہے۔ تاجروںنے ظفرپارک سے پرانے بس سٹینڈ تک احتجاجی جلوس نکالا اور مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔

 مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ٹریڈ یونین بٹ خیلہ کے صدر حاجی شاکر اللہ اور دیگر نے کہا کہ فاٹا کی خیبر پختونخوا میں انضمام سے آرٹیکل 247 کے خاتمے سے ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت اور ٹیکس فری زون کی سہولت ختم ہوچکی ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن ایک پسماندہ علاقہ ہے گزشتہ دس سال میں یہاں دہشت گردی ، سیلاب، زلزلوں اور فوجی آپریشن کی وجہ سے عوام کی معاشی حالت تباہ ہوگئی ہے مگر حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے برعکس ٹیکس فری زون حیثیت ختم کرکے لوگوں کو فاقہ کشی پر مجبور کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے مگر ہم کسی قسم کی ٹیکس ادا کرنے کو تیار نہیں۔

تیمرگرہ ، بلامبٹ ، خال ، تالاش ، چکدرہ ، ثمرباغ،اور منڈا میں تاجروں نے مکمل شٹر ڈائون ہڑتال کی تمام بازار ، قصابوں ، نان فروشوں ، ہوٹلوں ،سبزی فروشوں اور میڈیسن کی دکانوں سمیت تمام دکانیں اور کار و باری مراکز بندرہے جبکہ ٹریفک بھی معمول سے کم رہی جس کی وجہ عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑا۔

تیمرگرہ میں تاجروں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جس سے انجمن تاجران تیمرگرہ کے صدر حاجی انوارالدین ، جنرل سیکرٹری حاجی لائق زادہ ، اے این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر زاہد خان ، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مولانا اسدا للہ ، جما عت تحصیل تیمرگرہ کے امیر ملک شیر بہادرخان ، پیپلزپارٹی لوئیر دیر صدر نواب زادہ محمود زیب خان ، سیکرٹری اطلاعات عالم زیب ایڈوکیٹ ، اے این پی کے شفیع اللہ خا ن یوسف زئی ، تحریک اللہ اکبر کے امجد شیخ ، اقلیت کے سدیش کمار، جمعیت علماء اسلام کے ضلعی صدر مولانا زاہدخان ، اور مفتی خالد، عمران ٹاکور ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے ملاکنڈ ڈویژن کی پاٹا حیثیت کے خاتمہ اور ٹیکسوں کے نفاذ کے فیصلے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ملا کنڈ ڈویژن ایک پسماندہ علاقہ ہے یہاں پرکوئی انڈسٹری ہے اور نہ کوئی سہو لت ہے ملا کنڈ ڈویژن کو بھٹو دور میں سو سال کیلئے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا اس لئے ملاکنڈ ڈویژن کی پاٹا حیثیت کو برقرار رکھا جائے۔

چکدرہ سمیت تحصیل آدینزئی بھر میں بھی مکمل شٹردائون ہڑتال رہی ۔ انجمن تاجران آدینزئی کے صدر خواجہ فیض الغفورنے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ کہا کہ حکومت نے فاٹاانضمام کی آڑمیں ملاکنڈ ڈویژن کی ٹیکس فری زون حیثیت ختم کرکے یہاں ٹیکس وصولی کا منصوبہ بنایاہے مگر یہاں کی تاجربرادری اور عام شہریوں کو یہ اقدام کسی طور قابل قبول نہیں۔

 متحدہ ٹریڈ یونین سخاکوٹ کے زیر اہتمام سخاکوٹ بازار میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت ٹریڈ یونین کے صدر حمید خان لالا اور دیگر قائدین کر رہے تھے ۔ مظاہرین نے مین بس سٹاپ پر جلسہ منعقد کیا جس سے ٹریڈ یونین کے صدر حمید خان لالا ، جنرل سیکرٹری حضرت گل ،تحصیل نائب ناظم حاجی اعظم خان ، سینئر نائب صدر حاجی نواب خان ، مولانا شمس الحق ، پی ٹی آئی پی کے 19کے اُمیدوار پیر مصور خان غازی ، آزاد اُمیدوار انجینئر امجد علی ، ملاکنڈ ٹریڈ یونین کے جنرل سیکرٹری عنایت خان ،پی پی پی کے رہنماء محمد اعظم خان ،فضل رحیم خان ماما ، جاسم علی ایڈوکیٹ ، فضل خالق لالا اور ممبر ضلع کونسل حاجی اکرم خان سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا ۔

صدر حمید خان لالا اور دیگر مقررین نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی حیثیت بحالی کے لئے بھر پور تحریک چلائینگے اور پہلے مرحلے میں شٹر ڈائون ہڑتال کے بعد مکمل پہیہ جام اور سول نافرمانی کی تحریک شروع کرینگے کیونکہ ملاکنڈ ایک پسماند ہ ڈویژن ہے جبکہ آپریشن ، سیلاب اور زلزلہ کی وجہ سے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان نے ہمیں آزاد حیثیت دی ہے اور یہاں کسی قسم کا ٹیکس اور کسٹم ایکٹ لاگو نہیں کیا جاسکتا اس لئے نگران وزیر اعظم جس کا تعلق سوات سے ہے فوری طور پر ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی حیثیت بحال کرنے کے لئے ہدایات جاری کریں ۔