نوازشریف کو10سال،مریم کو7سال سزا،ایون فیلڈ ضبط کرنیکا حکم

July 6, 2018

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو 10 سال اور مریم نواز کو 7 سال قید کی سزا سنا دی، جب کہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔


نواز شریف کو سزا

کمرہ عدالت سے باہر آکر وکلا نے بتایا کہ نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے، جب کہ انھیں 80 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ ملزمان دس سال تک کسی بینک سے قرضہ نہیں لے سکتے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے اثاثے چھپانے میں مریم نواز کا اہم کردار تھا، جب کہ مریم نواز کی پیش کی گئی ٹرسٹ ڈیڈ بوگس نکلیں۔ مجرمان پر10 سال کیلئے عوامی یا  سرکاری عہدہ رکھنے پر پابندی ہوگی۔

مریم اور صفدر کوسزا

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف کو 7 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے، جب کہ انھیں 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ کیا گیا ہے۔ مریم نواز کو کیلیبری فونٹ کے معاملے میں غلط بیانی پر شیڈول 2 کے تحت ایک برس قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر نے عدالت کے باہر فیصلہ سناتے ہوا بتایا کہ ’کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی ایک سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق کیپٹن صفدر نے بطور گواہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کئے، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے جرم میں  معاونت کی۔

حسین اور حسن نواز

احتساب عدالت کے فیصلے میں حسن اور حسین نواز کو اشہتاری قرار دیا گیا ہے، حسن اور حسین نواز کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں۔

سزا کے بعد مریم نااہل قرار

احتساب عدالت سے سزا ملنے کے بعد مریم نواز 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کی اہل نہیں رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز لاہور کے حلقہ این اے 127 اور پی پی 137 جب کہ کیپٹن (ر) صفدر این اے 14 مانسہرہ سے امیدوار تھے۔

نیب کے پراسیکیوٹر سردار مظفر نے میڈیا کے نمائندوں سے گفت گو میں کہا ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ کہ ایون فیلڈ اپارٹنمٹس کو ضبط کر لیا جائے۔ نیب کے پراسیکیوٹر سردار مظفر نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا ہے عدالت نے اپنے فیصلے میں وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ ایون فیلڈ اپارٹنمٹس کو بحقِ سرکار ضبط کر لیا جائے۔

کیا اپیل کا حق حاصل ہے؟

سردار مظفر عباسی نے بتایا کہ نیب آرڈیننس میں سزا کے خلاف اپیل کے لیے 10دن رکھے گئے ہیں، اس لیے ملزمان کو سزا کے خلاف 10 دن میں اپیل کا حق حاصل ہے۔

شہباز شریف نے فیصلہ مسترد کردیا، احتجاج کا اعلان

مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے۔ پورے مقدمے میں کوئی ٹھوس قانونی دستاویز فراہم نہیں کی۔ میاں نواز شریف کا نام پاناما مقدمے میں کہیں نہیں لکھا۔ ایون فیلڈ اور آف شور کمپنیوں میں بھی ان کا نام نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں تھے

اندازہ تھا کہ یہی فیصلہ آئے گا

مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری نے احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے گفت گو کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف جو بھی قانونی راستہ ہوگا اسے اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کے کارکنوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ابھی ووٹ کا اختیار ہے۔

کہیں خوشی، کہیں غم

احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں ملے جلے تاثر دیکھے گئے۔ ن لیگ کی جانب سے احتجاج تو پی ٹی آئی نے مٹھائی تقسیم کرتے ہوئے جشن منایا۔ فیصلہ سنائے جانے کے فوراً بعد ملک کے مختلف شہروں میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی جانب سے شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ موصول فوٹیجز میں کارکنوں کو نعرے بازی کرتے اور سینہ کوبی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے جشن منانا شروع کر دیا ہے اور وہ عمران خان کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے ایک دوسرے کو مبارک بادیں دے رہے ہیں۔

نیب کے پراسیکیوٹر

احتساب عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی توثیق ہے، ہل میٹل کیس اور فلیگ شپ ریفرنس اپنے اختتامی مراحل میں ہیں ،ثابت ہوگیا کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس 1993 سے شریف فیملی کی ملکیت تھے ۔ احتساب عدالت سے باہر آکر میڈیا سے گفت گو میں نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ثابت ہوگیا کہ اثاثے کرپشن سے بنائےگئے، نواز شریف پر80 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، جب کہ جعلی دستاویز جمع کرانے پر مریم نواز کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ نیب پراسیکیوٹر کے مطابق دفاع کیلئے فریقین کو10ماہ کا بھرپور موقع دیا گیا، ملک کو لوٹنے والوں کے لئے فیصلے میں پیغام ہے۔

اہم ترین کیس میں صبح سے اب تک کیا ہوا؟

 

فیصلہ بند کمرے میں سنایا جا رہا ہے

چار بار موخر کرنے کے بعد آخرکار احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ بند کمرے میں سنایا گیا۔ فیصلہ سنانے سے قبل میڈیا کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا گیا اور اس وقت عدالت میں صرف فریقین کے وکلا موجود رہیں۔

کیا فیصلے کی فوٹو کاپی تاخیر کی وجہ؟

احتساب عدالت کی جانب سے جاری اعلان کے مطابق جج کا کہنا ہے کہ فیصلہ ساڑھے تین بجے سنائیں گے، فوٹو کاپیاں تیار کی جارہی ہیں، تھوڑی تھوڑی غلطیاں بھی درست کرنی ہوتی ہیں۔

نوازشریف،مریم اور اسحاق ڈار ایون فیلڈ اپارٹمنٹس پہنچ گئے

ایون فیلڈ ہاؤس کے باہر صحافیوں کی کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اس موقع پر فیصلہ سننے کے لیے میاں نواز شریف، مریم نواز کے علاوہ اسحاق ڈار بھی ان اپارٹمنٹس میں موجود ہیں۔

فیصلے میں مزید آدھے گھنٹے کی تاخیر

احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنائے جانے میں مزید آدھے گھنٹے کی تاخیر کا اعلان کیا گیا ہے۔ اب عدالت یہ فیصلہ شام تین بجے سنائے گی۔

فیصلہ مزید دو گھنٹے کے لیے موخر

احتساب عدالت نے فیصلہ سنانے میں مزید دو گھنٹے کی تاخیر کا اعلان کیا ہے۔ اب فیصلہ دن ڈھائی بجے سنایا جائے گا۔ اس بات کا اعلان ایک عدالتی اہلکار نے کیا اور جج صاحب دوبارہ عدالت میں نہیں آئے ہیں۔

نواز شریف کی درخواست مسترد،عدالت کا دو ٹوک اعلان، فیصلہ آج ہی

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے میں تاخیر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جمعے کو ساڑھے بارہ بجے فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے۔

اہم سماعت کے10 سے 15 منٹ میں کیا ہوا؟

جمعہ کے روز ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں فیصلہ ایک ہفتے مؤخر کرنے کی درخواست پر درخواست گزار کے وکلاء کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ فیصلہ سنائیں نہیں، ہم کہہ رہے ہیں کہ سات دن کے لیے مؤخر کر دیں۔ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے عدالت سے کہا کہ چونکہ کلثوم نواز کی حالت ٹھیک نہیں اسی لیے وہ عدالت سے فیصلہ موخر کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے امجد پرویز نے عدالت میں کلثوم نواز کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ جو کہ تین جولائی کی ہے، عدالت میں جمع کروائی۔امجد پرویز نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت صرف اُس صورت میں ملزم کی عدم موجودگی میں فیصلہ سنا سکتی ہے جب ملزم اشتہاری ہو۔ ان کا کہنا تھا ہک ’ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ فیصلہ سنائیں نہیں، ہم کہہ رہے ہیں کہ سات دن کے لیے مؤخر کر دیں۔‘دوسری جانب ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی کا کہنا تھا کہ قانون میں ایسی کوئی مثال نہیں ہے جس میں عدالت فیصلہ سنانے کی تاریخ دے اور پھر اس کو موخر کرنے کی درخواست پر غور کرے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایسی مثال قائم کی گئی تو پھر تمام ملزمان اس عدالتی فیصلے کو نظیر بناتے ہوئے اپنے خلاف سنائے جانے والے عدالتی فیصلوں کو کچھ دیر کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست دیا کریں گے۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت اس درخواست کو مسترد کر دے۔

نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ مزید ایک ہفتے تک نہ سنائے جانے کی درخواست مسترد کردی۔ اس سے قبل سماعت ایک گھنٹے کے لیے موخر کر گئی تھی، جج کی جانب سے فیصلہ اپنے چیمبر میں لکھوایا گیا، جو جمعہ کے روز دن 11 بجے سنایا گیا۔ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ بند لفافے میں موجود ہے، درخواست مسترد ہونے پر ریفرنس کا فیصلہ سنانا شروع کیا جائے گا۔ جمعہ کی صبح احتساب عدالت میں ہونے والی سماعت 10 سے 15 منٹ تک ہی جاری رہی۔ احتساب عدالت کے جج جسٹس محمد بشیر، نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق، سردارمظفر اور مسلم لیگ(ن) کے رہنما آصف کرمانی بھی نیب کورٹ پہنچ گئے، جب کہ نواز شریف کیس کا ممکنہ فیصلہ لندن میں سنیں گے۔

مجرم کا عدالت میں ہونا ضروری نہیں

ماہرین قانون کا خیال ہے کہ سی آر پی کی سیکشن (3) 366 واضح ہے کہ کسی عدالتی فیصلے کو اس بنیاد پر غیر موثر قرار نہیں دیا جا سکتا ہے کہ عدالتی فیصلے کے وقت ملزم عدالت میں موجود نہیں تھا۔

 

پاناما،اقامہ اور اب ایون فیلڈ

پانامہ کے بعد اقامہ اور اب لندن فلیٹس کے ریفرنس کا فیصلہ آج نواز شریف اور اہل خانہ کے خلاف سنائے جانے کا امکان ہے۔ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف نیب سیکشن اے 95 کے تحت کارروائی ہوئی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ شق کے تحت عوامی عہدار آمدن سے زائد اثاثوں پر سزا کا مرتکب ہوگا، ماہرین نے نیب پراسیکیوٹر کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس شق کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا 14 سال ہے، اس شق کے تحت کارروائی پر عوامی عہدیدار اور اس کے نے نامی داروں کی جائیداد ضبط ہوگی۔

قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ حسین اور حسن اشتہاری قرار دیئے گئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا کیس الگ کردیا گیا ہے، حسن اور حسین کو مفرور ہونے پر تین تین سال کی سزا ہوسکتی ہے، حسن اور حسین کے دائمی وارنٹ پر مقدمہ داخل دفتر ہوگا، اگر مجرم قرار دیئے گئے تو انہیں سرنڈر کرنا ہوگا اور ان کی غیر موجودگی میں اپیل نہیں ہوسکتی۔

پہلے کون سا فیصلہ سنایا جائیگا؟

پہلے نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ سنایا جائے گا۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق عدالت پہلے فیصلہ موخر کرنے کے حوالے سے نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ سنائے گی۔ اگر یہ درخواست مسترد ہوگئی تو پھر عدالت ایون فیلڈ کیس کا فیصلہ سنائے گی تاہم اگر یہ درخواست منظور کر لی گئی تو عدالت دوسرا فیصلہ موخر کر دے گی۔

سزا 14 سال کی؟

احتساب عدالت سلام آباد آمد پر نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے سوالات پر مختصر گفت گو کی۔ صحافیوں کی جانب سے نیب پراسیکیوٹر سے سوال کیا گیا کہ سیکشن 14 پر نواز شریف کو زیادہ سے زیادہ کتنے سال سزا ہوسکتی ہے؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر کا کہنا تھا کہ 14 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ جس پر صحافیوں کی جانب سے دوبارہ سوال کیا گیا کہ نواز شریف کو سیکشن 14 کے تحت زیادہ سے زیادہ کتنی سزا ہوگی، جس پر ایک بار پھر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ 14 سال سزا ہوسکتی ہے۔

کیپٹن صفدر کہاں غائب ہیں؟

کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے وکیل امجد پرویز بھی احتساب عدالت پہنچیں۔ صحافیوں کی جانب سے وکیل سے پوچھا گیا کہ کیا آج کیپٹن صفدر عدالت آکر فیصلہ سنیں گے؟، جس پر وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ کیپٹن صاحب سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، اس کا فون بند جا رہا ہے، کل سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کیا آصف کرمانی دل گرفتہ؟

دوسری جانب عدالتی احاطے میں موجود ن لیگ کے رہنما آصف کرمانی نے بھی میڈیا سے انتہائی مختصر بات چیت کی۔ آصف کرمانی کا کہنا تھا کہ حاضر ہوئے ہیں آج ہم، اور فیصلہ آنے دیں، فیصلے کے بعد اس پر دیکھا جائے گا، پھر تفصیلی بات کریں گے۔ کیس کی دس ماہ سماعت ہوئی جس میں لندن کے فلیٹ کس کی ملکیت؟ کہاں سے آئے یہ فلیٹ، کس نے دیے یہ فلیٹ؟ جیسے سوالات تھے۔ نوازشریف کے جیل جانے یا بری ہونے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

ن لیگی کارکن کہاں غائب؟

احتساب عدالت کے باہر سیکیورٹی سخت لیکن مسلم لیگ ن کے کارکن بڑی تعداد میں غائب ہیں۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر اگرچہ سیکیورٹی کے سخت انتطامات کیے گئے ہیں تاہم ماضی میں اس ریفرنس کی سماعت کے موقع پر دیکھی جانے والی گہما گہمی نہیں ہے اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تو موجود ہے لیکن مسلم لیگ ن کے کارکن دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

کیس میں منی ٹریل کے دستاویزی ثبوت کے بڑے بڑے دعوے کیے گئے مگر ایک قطری خط کے سوا کچھ پیش نہ کیا۔ قطری شہزادہ گواہی دینے نہ آیا تو اس کا خط ردی کی ٹوکری کی نذر ہوگیا۔ احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی دس ماہ سماعت ہوئی۔ وکیل صفائی کا دعویٰ ہے کہ شریف خاندان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں، جبکہ استغاثہ کے مطابق شریف خاندان منی ٹریل دینے میں ناکام رہا۔

علاوہ ازیں سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ مؤخر کرنے کے لیے دائر درخواست دائر کی گئی ہے اور اس درخواست پر سماعت بھی آج ہی ہوگی، اگر نواز شریف کی درخواست منظور ہوگئی تو فیصلہ مؤخر کردیا جائے گا بصورت دیگر فیصلہ جاری ہوجائے گا۔ نوازشریف نے اپنے وکیل خواجہ حارث کے معاون وکیل ظافر خان کے توسط سے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ مؤخر کرنے کے لیے باضابطہ درخواست دائر کردی ہے۔

واضح رہے کہ 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ نے اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دیا اور نیب کو شریف خاندان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا۔ جس کے بعد 7 ستمبر 2017 کو قومی احتساب بیورو نے نواز شریف، اُن کے بچوں اور داماد محمد صفدر کے خلاف تین ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں 8 ستمبر 2017 کو احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر دیئے گئے۔ 9 ستمبر کو اسلام آباد میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے مقدمات کی سماعت شروع کی۔

 

اس پہلی سماعت میں شریف خاندان کی جانب میں کوئی بھی پیش نہیں ہوا اور نواز شریف کے مشیر آصف کرمانی نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ نواز شریف کی اہلیہ کینسر کے علاج کے لیے لندن میں موجود ہیں اور شریف خاندان اُن کی تیمار داری میں مصروف ہے۔ عدالت نے شریف خاندان کو عدالت میں حاضر کرنے کے لیے دوسرا سمن جاری کیا۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس پر 9 مہینے اور 20 دن جاری رہنے والی ٹرائل میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز100 سے زائد مرتبہ احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا گیا تھا۔

 

مذکورہ فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ نے نیب کو نواز شریف، ان کے صاحبزادے حسن نواز اور حسین نواز، صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیتے ہوئے 6 ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم دیا تھا۔ پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز بھی زیر سماعت ہیں۔