کرم ایجنسی سے نقل مکانی کرنے والوں کا واپس لوٹنے سے انکار

SAMAA | - Posted: Jun 27, 2018 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Jun 27, 2018 | Last Updated: 3 years ago

کرم ایجنسی سے ایک عشرہ قبل نقل مکانے کرنے والے خاندانوں نے واپس لوٹنے اور حکومت کی جانب سے جاری بحالی عمل مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف ہونے والے آپریشن کے سبب تباہ ہوجانے والے گھروں اور دکانوں کی دوبارہ تعمیر کے لیے فنڈزفراہم کیا جائے۔

گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حاجی روح اللہ و دیگر قبائلی عمائدین نے کہا کہ حکومت قبائلی خاندانوں کو زبردستی ان کے گاؤں میں واپس بھیج رہی ہے اور جو خاندان جانے کے لیے تیار نہیں، ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے اور ان کی زمینیں ضبط کرنے کی دھمکیاں دے کر خوفزدہ کیا جارہا ہے۔

حاجی روح اللہ نے کہا کہ جب کچھ لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے گھر مسمار کردیے گئے ہیں اور وفاقی حکومت ان گھروں کی دوبارہ تعمیر کے لیے فنڈ جاری کرنے کوتیار نہیں جبکہ نقل مکانی کرنے والےخاندانوں کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ اپنے تباہ شدہ گھروں کو خود دوبارہ تعمیر کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ کرم ایجنسی کے کچھ عمائدین انتظامیہ سے ملی بھگت کر کےمتاثرہ خاندانوں کو واپس جانے پر مجبور کررہے ہیں تا کہ میڈیا میں اپنی کارکردگی دکھا سکیں۔

حاجی روح اللہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پارہ چنار سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک ہزار خاندان اپنے گھروں سے 11 سال سے بے دخل ہیں لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے اس مسئلے کی طرف کبھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اب فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم ہوجانے کے باعث قبائلی عوام کو عدالتوں تک رسائی حاصل ہے اور اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔

قبائلی عمائدین نے مطالبہ کیا کہ حکومت تباہ شدہ گھروں اور دکانوں کی دوبارہ تعمیر کے لیے فنڈزفراہم کرے جبکہ متاثرہ خاندانوں کو ڈرا دھمکا کر واپس بھیجنے کا سلسلہ روکا جائے بصورت دیگر عدالت سے رجوع کریں گے اور پارلیمنٹ ہاوس کے باہر دھرنا بھی دیا جائے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube