لاپتا افراد کون اور کہاں؟ چیف جسٹس کے چیمبر میں اہم سماعت

SAMAA | - Posted: Jun 24, 2018 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Jun 24, 2018 | Last Updated: 3 years ago

چیف جسٹس پاکستان نے لاپتا افراد سے متعلق کیسز کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے صوبائی سربراہان کو بھی اتوار کے روز عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار اتوار کو چھٹی کے...

چیف جسٹس پاکستان نے لاپتا افراد سے متعلق کیسز کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے صوبائی سربراہان کو بھی اتوار کے روز عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیدیا۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار اتوار کو چھٹی کے روز بھی عدالت لگائیں گے، جہاں وہ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں لاپتا افراد کیس کی سماعت کریں گے۔

سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں لاپتا افراد کے کیسز کی سماعت کے موقع پر لاپتا افراد کے اہل خانہ بڑی تعداد میں دہائیاں دیتے عدالتی عمارت کے باہر پہنچ گئے۔ متاثرین اور اہل خانہ کی بڑی تعداد نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور لاپتا افراد کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

اس موقع پر والدین اپنے لاپتا بچوں کو یاد کرکے روتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کرتے رہے۔ اہل خانہ کا کہنا تھا کہ اگر کوئي جرم کيا ہے تو عدالت ميں پیش کریں، زندہ ہيں تو بازياب کرائيں، ہمیں بتایا جائے کہ ہمارے بچے زندہ ہیں یا مار دیئے گئے ہیں، اگر مار بھی دیئے گئے ہیں تو ہمیں بتا دیا جائے۔

واضح رہے کہ لاڑکانہ میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے سیشن کورٹ کا دورہ کیا اور مختلف سماعتوں کا جائزہ لیا۔ چیف جسٹس کی لاڑکانہ آمد کے موقع پر لاپتا افراد کے اہل خانہ نے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے مظاہرہ کیا اور چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے لاپتا افراد کے لواحقین کے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس، ڈی جی رینجرز سندھ سمیت دیگر اداروں کے افسران کو اتوار کے روز 12 بجے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 2013، 2015، اور 2016 میں بھی مختلف شہروں سے لاپتا ہونے والے افراد کے اہل خانہ کی جانب سے سپریم کورٹ سے رجوع کرکے اپنے پیاروں کو بازیاب کرانے کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں، جس پر اس وقت کی وزارت داخلہ ، ایجیسز حکام اور پولیس چیفس سے جوابات طلب کیے گئے تھے۔ بعض مواقع پر سپریم کورٹ کی جانب سے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس پر عدم اطمینان کا اظہار بھی کیا گیا۔

عالمی سطح اور انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کا جانب سے اکثر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ان لاپتا افراد کے پیچھے ایجنسیز کا ہاتھ ہے، جو مختلف تنظیموں ، انتہا پسندوں یا دہشت گردوں سے کسی طور تعلق رکھتے ہیں یا ان کیلئے سہولت کار کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے جب اہل خانہ سے سوال کیا جاتا ہے تو ان کا ہمیشہ یہ کہنا ہوتا ہے کہ انہوں نے کبھی اپنے پیاروں کو ایسی کسی سرگرمی میں ملوث نہیں دیکھا نہ انہیں کبھی کسی بات پر شہبہ ہوا۔

یومن رائٹس کمیشن کی جانب سے جاری رپورٹس کے مطابق ایسے لاپتا افراد کی اکثر تعداد بلوچستان، سندھ بلخصوص کراچی اور کے پی فاٹا سے ہوتی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube