الیکشن کمیشن اسکروٹنی سیل میں 100 سے زائد امیدوار مشکوک قرار

Samaa Web Desk
June 12, 2018

الیکشن کمیشن اسکروٹنی سیل میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال، کس حلقے سے کون سا امیدوارڈیفالٹر، سما نے رپورٹ حاصل کر لی، اسٹیٹ بینک نے سو سے زائد امیدوار مشکوک قراردے دئیے۔

الیکشن کمیشن اسکروٹنی سیل میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال جاری ہے تاہم کس حلقے سے کون سا امیدوار ڈیفالٹر ہے سما نے رپورٹ حاصل کر لی۔

اسٹیٹ بینک نے100 سےزائد امیدوارمشکوک قرار دے دئیے جس میں این اے143، 144 اور پی پی 186 سے میاں منظور احمد وٹو ڈیفالٹرز میں شامل ہیں

این اے 224 سےعبدالستاربچانی اورذوالفقاربچانی ، این اے 256 سےامیر ولی الدین چشتی،این اے257 سےایازخان، این اے 258 سے چنگیز خان بھی بینک کے ڈیفالٹرز میں شامل ہیں۔

این اے 52 سے اظہرکھوکھراورپی پی 109 سےزینب احسان بھی نادہندہ نکلے ، پی پی 113 سےعمر فاروق کے ذمہ بینکوں کی رقم واجب الادا ہے، خالد کامران، حنا ربانی کھر، طاہرہ امتیاز اور عالیہ آفتاب بھی بینکوں کے نادہندہ نکلیں ۔

پی پی 136 سےمشتاق احمد اور پی پی 185 سےعلی عاصم شاہ ، پی پی 66 سے چوہدری شکیل گلزار ، پی کے 46 سے محمد علی ترکئی بھی بینکوں کے ڈیفالٹر نکلے۔

تاہم الیکشن کمیشن نےاسٹیٹ بینک کی رپورٹ متعلقہ آراوزکوبھجوا دی ہیں ،ڈیفالٹرامیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ریٹرننگ افسران کریں گے۔