Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

حافظ سعید کی ملی مسلم لیگ انتخابات میں اللہ اکبر تحریک کی حمایت کریگی

SAMAA | - Posted: Jun 11, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 11, 2018 | Last Updated: 3 years ago

حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ سے تعلق رکھنے والی مذہبی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ نے انتخابات 2018ء میں اللہ اکبر تحریک کی حمایت کا فیصلہ کرلیا۔

مقامی سیاسی جماعت اللہ اکبر تحریک  (اے اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر احسان عبدالباری ہیں، جماعت کا قیام 15 سال قبل عمل میں آیا جب الیکشن کمیشن پاکستان میں اس کی رجسٹریشن 2013ء میں ہوئی۔

ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد نے اپنے کارکنوں کو انتخابات میں کیلئے بھرپور تیاری کی ہدایت کی اور کہا کہ الیکشن 2018ء میں کامیابی آپ کی قسمت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایم ایم ایل عید کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد کرے گی۔

ایم ایم ایل کے ترجمان تابش قیوم نے تصدیق کی ہے کہ ان کی جماعت انتخابات میں اللہ اکبر تحریک کے امیدواروں کی حمایت کرے گی۔

الیکشن کمیشن پاکستان نے مسلم لیگ نواز حکومت کے اعتراضات پر ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کیلئے درخواست مسترد کردی تھی، اب یہ معاملہ عدالت میں ہے۔

گزشتہ سال ستمبر میں وزارت داخلہ کی جانب سے الیکشن کمیشن پاکستان کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ ایم ایم ایل کی سیاسی سرگرمیوں پر سفارتی سطح پر باضابطہ اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے خط میں انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے خدشات کا بھی اظہار کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا کہ کالعدم اور زیر نگرانی جماعت کا مقصد خود کو پابندیوں سے آزاد کرنا ہے، ایسی جماعت کا عملی سیاست میں حصہ لینا انتہائی تشویشناک ہے، جس سے سیاست میں انتہاء پسندی اور تشدد کو فروغ ملنے کا خدشہ ہے۔

حافظ سعید گزشتہ برس باضابطہ طور پر پارلیمانی سیاست میں حصہ لینے کا عندیہ دے چکے ہیں، تاہم ملی مسلم لیگ کے ترجمان نے حافظ سعید کے انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

اللہ اکبر تحریک کے سربراہ ڈاکٹر احسان عبدالباری نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ملی مسلم لیگ نے انتخابات میں ان کی جماعت کی حمایت کا اعلان کیا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوئی باضابطہ انتخابی اتحاد نہیں ہے، ملی مسلم لیگ کے لوگ اللہ اکبر تحریک میں شمولیت اختیار کررہے ہیں، اپنی جماعت میں حافظ سعید کو بھی خوش آمدید کہیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اللہ اکبر تحریک سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر انتخابات میں حصہ لے گی۔

رواں برس اپریل میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ملی مسلم لیگ اور تحریک آزادی کشمیر کو لشکر طیبہ سے منسلک تنظمیں قرار دیا تھا، اس کے علاوہ امریکی محکمہ خزانہ نے ملی مسلم لیگ کے 7 رہنماؤں کو لشکر طیبہ کے کارندوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

اسٹیٹ ڈیپارمنٹ کا کہنا ہے کہ اگست 2017ء میں حافظ محمد سعید نے ملی مسلم لیگ کو لشکر طیبہ کے سیاسی گروپ کے طور پر بنایا تھا، لشکر طیبہ کے لوگ ملی مسلم لیگ کی قیادت میں شامل ہیں جو کھلے عام حافظ سعید کیلئے پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے بینرز پر ان کی تصاویر اور سوچ کو فروغ دیتے ہیں۔

غیر رسمی گفتگو میں مسلم لیگ ن کے رہنماء حافظ محمد سعید کی مرکزی سیاسی دھارے میں شمولیت کی مخالفت کرچکے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ ایم ایم ایل اور دیگر مذہبی جماعتوں کی سیاست میں آمد اصل میں نواز شریف کی سیاسی جماعت کا ووٹ بینک متاثر کرنے کی کوشش ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube