طیبہ تشددکیس،اسلام آبادہائی کورٹ نےملزمان کی سزابڑھادی

طیبہ تشددکیس،اسلام آبادہائی کورٹ نےملزمان کی سزابڑھادی

Samaa Web Desk
June 11, 2018

شہر اقتدار میں تشدد کا نشانہ بننے والی کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ کی سنی گئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق ایڈیشنل جج اور اُس کی اہلیہ کی سزا میں دو دو سال کا اضافہ کردیا۔راجہ خرم کمرہ عدالت سے گرفتارکرلیےگئے۔اہلیہ ماہین کی گرفتاری کا بھی حکم دے دیا گیا۔

کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس میں سابق ایڈیشنل سیشن راجہ خرم اور اُس کی اہلیہ کو سزا کے خلاف اپیل مہنگی پڑگئی۔سزا ختم نہ ہوئی بلکہ اُلٹا اضافہ ہوگیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس میاں گل حسن پر مبنی ڈویژن بنچ نے طیبہ تشدد کیس میں ملزمان اور وفاق درخواستوں پر فیصلہ سنادیا۔

راجہ خرم اور ماہین ظفر کی درخواستیں مستردکردی گئیں۔ وفاق کی اپیل منظورکرتےہوئےملزمان کی قید کی سزا میں دو سال اضافہ کرکےجرمانہ بھی دولاکھ روپے بڑھادیاگیا۔

عدالت عالیہ کے جسٹس عامرفاروق نے17 اپریل کو دونوں میاں بیوی کوایک ایک سال قیداور پچاس پچاس ہزار روپے جرمانےکی سزا سنائی تھی جس کےبعدملزمان نےسزاختم کرنےجبکہ وفاق نے سزا بڑھانے کیلئے درخواستیں دائرکی تھیں۔

ڈویژن بنچ نے تشدد سمیت مقدمے کی تمام دفعات بحال کردیں۔ ملزمان کواب ایک سال کےبجائے تین سال قیدکاٹناہوگی جبکہ پچاس ہزارکی جگہ ڈھائی ڈھائی لاکھ روپےجرمانہ اداکرناہوگا۔ فیصلے کے بعد راجہ خرم کو احاطہ عدالت سے گرفتارکرلیاگیا۔