محمود اچکزئی کا غلط حلقہ بندیوں کے خلاف سپریم کورٹ جانےکا فیصلہ

SAMAA | - Posted: Jun 8, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 8, 2018 | Last Updated: 3 years ago

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی حالیہ غلط بندیوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائیگا، غلط حلقہ بندیوں کے خلاف احتجاج کا آغاز کیا جائیگا، حلقہ بندی کر کے پشتونوں کا مذاق اڑایا جارہا ہے، الیکشن کمیشن کے خلاف سپریم کورٹ میں توھین عدالت کی درخواست دیں گے۔

 ان کا مزید کہنا تھا کہ جب سے صوبہ بلوچستان بنا ہے بعض قوتیں پختونوں کی اکثریت کم کرنا چاہتی ہیں، حلقہ بندیوں میں آبادی کو نظر انداز کیا گیا ہے، پاکستان میں ایسے حلقے تشکیل دئے گئے جس کی آبادی 2 لاکھ ہے، پشتونوں کے علاقے میں ایسے حلقے بھی ہیں جسکی آبادی 3 لاکھ سے بھی زیادہ ہے اس طرح شیرانی اور موسی خیل کو ایک حلقہ بنایا گیا ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پشتون آبادی کو نقصان پہنچانے کے لئے حلقہ بندیاں کی، کوئٹہ کے 9 حلقوں سے 8 میں قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہیں جب کہ الیکشن کمیشن کا غلط حلقہ بندیوں پر ڈٹے رہنا قابل افسوس ہے، نئی حلقہ بندیوں میں پشتونوں کو اقلیت میں تبدیل کیا گیا ہےوہ چاہتے ہیں کہ ہم الیکشن  سے بائیکاٹ کریں انھوں نے خبرادر کیا کہ اگر اسطرح ہر بات پہ کھینچا تھانی ہوتی رہی تو معاملات خراب ہونگے۔

 ان کا کہنا تھا کہ پشتونخوا میپ نے کبھی بھی پاکستان مخالف نعرے بلند نہیں کئے، ہم پر اداروں کے چار اہلکاروں کو مارنے کا الزام ہے جو سراسر غلط ہے، ادارے تحقیقات کریں اگر ہم ملوث پائے گئے تو سزا کے لئے تیار ہیں، ملک میں پشتونوں کے خلاف منظم تحریک چلائی جا رہی ہیں جس پر خاموشی اختیار نہیں کی جائیگی، ملک تمام تر بحرانوں کے باوجود بہتر انداز میں تب چل سکتا ہے جب برابری کی بنیادوں پر حقوق دئے جائیں انھوں نے مشورہ دیا کہ ملکی سطع پر ایک گریٹ ڈیبیٹ کا آغاز کیا جائے جس میں جرنیل ,ججز,سیاست دان اور میڈیا کے نمائندے گریٹ ڈبیٹ میں شامل ہوں، اب بھی وقت ہے آئین کے دائرے میں رہ کر معاملات حل کئے جائیں، اگر مسائل کو جلد حل نہ کیا گیا تو بہت دیر ہو جائیگی، ملک کی جڑیں کھوکھلے کرنے والے ملک چلا رہے ہیں تو پھر چلا لیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نواز شریف کے علاوہ اور کوئی لیڈر نہیں جو ملک کو بچا سکتا ہے۔

 

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube