Saturday, November 28, 2020  | 11 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > Latest

الیکشن کمیشن کا لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان

SAMAA | - Posted: Jun 2, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 2, 2018 | Last Updated: 2 years ago

ARTWORK: Muhammad Obair Khan

الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا، عدالت عالیہ نے نامزدگی فارمز میں ترامیم کالعدم قرار دے دی تھیں، ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے۔

الیکشن کمیشن میں اہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میں کاغذات نامزدگی فارم اور حلقہ بندیوں سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کا جائزہ لیا گیا، ای سی پی نے نامزدگی فارم سے ختم کی گئی 19 شقوں اور حلقہ بندیوں سے متعلق عدالتی فیصلوں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔

مزید جانیے : الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کوکاغذات نامزدگی وصول کرنےسے روک دیا

ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن اختر نذیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے، کاغذات نامزدگی میں ترامیم کالعدم قرار دینے سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سریم کورٹ جائیں گے، فوری طور پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا جارہا ہے، حتمی فیصلہ عدالت عظمیٰ کرے گی، سپریم کورٹ کے فیصلے پر مستقبل کا لائحہ عمل بنائیں گے۔

تفصیلات جانیں : کاغذات نامزدگی میں ترمیم کالعدم، الیکشن کمیشن کو نئے فارم بنانے کی ہدایت

اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا کی زیرصدارت اجلاس میں چاروں ممبران، سیکریٹری الیکشن کمیشن اور ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمن نے شرکت کی۔

اجلاس میں نامزدگی فارم سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، حلقہ بندیاں کالعدم قرار دیئے جانے کے عدالتی فیصلے بھی زیر بحث آئے۔

اجلاس میں اِس بات پر مشاورت کی گئی کہ آیا نیا نامزدگی فارم تیار کیا جانا چاہئے یا موجودہ فارم میں رد و بدل کیا جائے۔

مزید دیکھیں : کاغذات نامزدگی میں تبدیلی، ایاز صادق کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق اسپیکر ایاز صادق نے بھی نامزدگی فارم میں تبدیلی کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا، کہتے ہیں کہ الیکشن شیڈول آنے کے بعد فیصلہ آیا ہے، پارلیمنٹ کی قانون سازی کیخلاف عدالتی فیصلہ چیلنج کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ میں رد و بدل نہ کیا جائے، انتخابات مقررہ تاریخوں میں ہونے چاہئیں، سینیٹ کے الیکشن بھی اسی ایکٹ کے تحت ہوئے۔

مسلم لیگ ن کے رہنماء کا کہنا ہے کہ تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر فارم میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا تھا۔

پیپلزپارٹی کا مؤقف

پیپلزپارٹی نے بھی لاہور ہائیکورٹ کو فیصلے کو مسترد کردیا، نیئر بخاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ الیکشن بھی 2017ء کے الیکشن ریفارمز کے تحت ہوئے تھے، دونوں ایوانوں نے ان ترامیم کی منظوری دی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک رکنی بینچ کو یہ معاملہ واپس پارلیمنٹ کی جانب بھیجنا چاہئے تھا، الیکشن کمیشن کسی بھی ترمیم کا اختیار نہیں رکھتا، کاغذات نامزدگی درست کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے۔

 

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube