العزیزیہ ریفرنس،استغاثہ کےاہم گواہ پرجرح مکمل نہ ہوسکی

العزیزیہ ریفرنس،استغاثہ کےاہم گواہ پرجرح مکمل نہ ہوسکی

Fiaz Mahmood
May 16, 2018

 

نواز فیملی کے خلاف العزیزیہ ریفرنس میں استغاثہ کے اہم گواہ واجد ضیاء پر جرح مکمل نہ ہوسکی۔ جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ دوہزارتیرہ چودہ میں ہل میٹل سے آئی اور یہ رقم حسین نوازکی جانب سے نہیں  تھی۔احتساب عدالت نے لندن فلیٹس ریفرنس میں ملزمان کے بیانات جمعہ سے ریکارڈ کرنےکا فیصلہ کر لیا۔

نواز خاندان کے خلاف احتساب ریفرنسز آخری مراحل کی طرف گامزن ہے۔العزیزیہ ریفرنس میں جے آئی ٹی سربراہ پر خواجہ حارث نےجرح کی۔

واجد ضیاء نے بتایا کہ نواز شریف اِنکم ٹیکس اور ویلتھ گوشواروں کےساتھ جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوئے۔ یہ درست ہے کہ حسین نواز سے نوازشریف کو آنیوالی ایسی کوئی رقم نہیں جو گوشواروں میں درج نہ ہو۔ ویلتھ گوشواروں میں 41.47 ملین کی غیرملکی رقم ظاہر کی گئی جوحسین نواز سے موصول ہوئی تھی۔ تاہم دوہزار تیرہ چودہ میں حسین نواز کی طرف سے کوئی رقم نہیں آئی۔

گواہ کے مطابق دستاویزات میں پہلی انٹری 14-2013 میں حسین نوازسےملنےوالے41.47 ملین کی رقم ہے جبکہ دوسری انٹری 192.05ملین ہل میٹل سےآئی رقم ہے مگر ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں اس کی انٹری نہیں۔ دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر اور خواجہ حارث کے درمیان گرما گرمی بھی ہوتی رہی۔ ریفرنس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔عدالت نے لندن فلیٹس ریفرنس کا معاملہ سمیٹنے کا حکم دیا ۔اس کےعلاوہ تین سو بیالیس کے بیان کیلئے سوالنامہ تیارکرلیاگیاہے۔جمعہ سے نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے بیانات ریکارڈ ہونگے۔