شپ بریکنگ مزدوروں کو سہولیات کی عدم فراہمی، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا عدم اطمینان

Zaheer Zarf
May 16, 2018

 

پاکستان میں شپ بریکنگ یارڈز کے مزدور تاحال حفاظتی سہولیات اور فلاح و بہود سے تاحال محروم ہیں، اداروں کی جانب سے وعدوں کے باوجود عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے ورکرز کی دی جانیوالی سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار اور لیبر قوانین پر عملدرآمد کا مطالبہ کردیا۔ 

پاکستان شپ بریکنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے گزشتہ روز  مزدوروں کی فلاح وبہبود اور ان کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کی سیفٹی کے حوالے سے گڈانی شپ بریکنگ میں ایک  تقریب منعقد کی گئی، تقریب کے مہمان خاص انٹرنیشنل لیبرآرگنائزیشن کی کنٹری ڈائریکٹر پاکستان مس انگریٹ کرسنن تھیں،تقریب سے خطاب کرتے ہوئےانھوں نےکہاکہ لیبر قوانین پر بہتر عملدرآمد کے لئے شپ بریکنگ یارڈ میں لیبرز کے متعلق دی جانے والی لیبر سیفٹی کو عالمی معیار اور آئی ایل او کی سفارشات کے مطابق بنانا ہوگا، انھوں نے کہاکہ سیفٹی کے ساتھ ساتھ مزدوروں کی فلاح وبہبود اور ان کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیئے۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے نمائندہ جب گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں مزدوروں کی سیفٹی کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کررہے تھے اسی وقت ان سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ہی پلاٹ نمبر 91 میں 30 سالہ مزدور مشل خان سر پر بھاری پلیٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئے۔

مشل خان صرف اکیلا ہی ایسا نہیں تھا کہ جس کے ساتھ ایسا ہوا بلکہ گڈانی شپ بریکنگ میں ایسے حادثات کا پیش آنا اب معمول کی بات ہے، نومبر2016ء میں اسی شپ بریکنگ کے پلاٹ نمبر 54 میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے بحری جہاز میں آگ لگنے کے باعث دو درجن سے زیادہ مزدور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیھٹے تھے۔

اس طرح کے حادثات کے مسلسل رونما ہونے کی وجہ جاننے کے لئے جب سماء نے شپ بریکنگ ورکرز یونین گڈانی کے صدر بشیر محمودانی سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ شپ بریکنگ میں سیفٹی کے نام پر کچھ نہیں، نومبر میں پیش آنے والے واقعہ کے بعد کچھ پلانٹس پر ہیلمٹ اور بوٹس دے کر سیفٹی کا راگ آلاپا جا رہا ہے، جب کہ دوسری جانب گڈانی میں نہ  تو ڈسپنسری کی سہولت موجود ہے نہ ایمبولینس کی اور نہ ہی پینے کے صاف پانی کی، چند ایک پلاٹس پر کچھ سہولیات موجود ہیں مگر وہ بھی محض دکھاوے کے لیے ہیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی،لیبر ڈپارٹمنٹ،انوائرمنٹ ڈپارٹمنٹ سب کی کارکردگی صفر ہے اور وہ صرف خانہ پُری کے لئے یہاں آتے ہیں۔

دوسری جانب لیبر ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر فدا شاہوانی نے ان  الزامات کی تردید کرتے ہوئے سماء کو بتایا کہ لیبر ڈپارٹمنٹ اپنا کام بخوبی کر رہی ہے البتہ شپ بریکرز کی جانب سے غفلت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، کل پیش آنے والے واقعہ کی مجھے تاحال رپورٹ نہیں ملی اور میں اس حوالے سے مکمل لاعلم ہوں۔

شپ بریکنگ ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین غنی بھائی سے جب سماء نے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ شپ بریکنگ انڈسٹری میں اس طرح کے حادثات کا پیش آنا عام بات ہے، اس طرح کے حادثات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے، ان حادثات کا روکنا ناممکن ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے نومبر 2016ء میں پیش آنے والے حادثے کے بعد مزدوروں میں ہیلمٹ،جیکٹس اور بوٹس تقسیم کئے ہیں اور ہر پلاٹس پر ڈسپنسر اور ایمبولنس کی سہولت بھی دی گئی ہے،اگر کسی مزدور کے حادثے میں زخمی ہونے کی اطلاع ملتی ہے تو اس کے علاج کا سارا خرچ شپ بریکنگ ایسوسی ایشن اٹھاتی ہے۔

غنی بھائی نے اس بات کا اقرار کیا کہ نومبر میں پیش آنے والا واقعہ ہماری غفلت تھی جس کے بعد ہم نے خود میں بہت ساری تبدیلیاں لائی ہیں اور اپنی کارکردگی میں سدھار لانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر کچھ جگہوں پر ہم مجبور ہوجاتے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے بی ڈی اے کو پانی کی لائن بچھانے کے لئے متعدد بار کہا ہے مگر اب تک ان کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔

واضح رہے کہ ڈیڑھ سال قبل شپ بریکنگ یارڈ گڈانی میں مزدوروں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد آئل ٹینکر شپس لنگرانداز کرنے پر شپ بریکنگ میں حکومت بلوچستان کی جانب سے مکمل پابندی عائد کی گئی تھی اور شپ بریکرز ایسوسی ایشن و متعلقہ اداروں کو لیبر سیفٹی سمیت تمام لیبر قوانین پر مکمل طورپر عملدرآمد کرنے اور شپ بریکنگ کے تمام یارڈز پر سیفٹی کے تمام انتظامات، ابتدائی طبی امداد کی سہولیات، مزدوروں کی رہائش کے لئے بہتر انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، مگر اب حکومت کی طرف سے اس پابندی کے ختم ہونے کے فوری بعد مزدور کی ہلاکت کا واقعہ سامنے آنا شپ بریکرز کے سیفٹی مہیا کرنے کے تمام دعووں کا پول کھول رہی ہے۔