Saturday, October 16, 2021  | 9 Rabiulawal, 1443

عدالتی فیصلے کے بعد بحریہ ٹاؤن میں پلاٹوں کی قیمتیں نیچے آگئیں

SAMAA | - Posted: May 6, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: May 6, 2018 | Last Updated: 3 years ago

عدالت کی جانب سے بحریہ ٹاون کراچی میں پلاٹ کی خرید و فروخت پر پابندی لگنے کے بعد اسیٹ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد بحریہ ٹاون کراچی میں 125 گز کے پلاٹ کی قیمت 25 لاکھ سے کم ہو کر اپنی اصل قیمت 17 لاکھ تک پہنچ گئی جس نے اسٹیٹ مارکیٹ میں کھلبلی مچادی ہے ۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی رہائشی و کمرشل پلاٹس فروخت نہیں کرسکتی ۔ بحریہ ٹاؤن کے ساتھ زمین کا تبادلہ قانون کے مطابق کیا جاسکتا ہے۔ زمین کے تبادلے کی شرائط اور قیمت عملدرآمد بنچ طے کرے گا۔عدالت کے علم میں آیا ہے کہ ڈی ایچ اے کو کوڑیوں کے بھاؤ دی گئی ۔

سپریم کورٹ نے ایم ڈی اے کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ تین ماہ میں ملوث افراد کیخلاف تحقیقات کرکے ریفرنس دائر کیا جائے۔ چیف جسٹس فیصلے پر عملدرآمد کیلئے خصوصی نگراں بنچ تشکیل دیں گے۔

تاہم عدالتی حکم نے اسٹیٹ ڈیلرز اور ہزاروں پاکستانیوں کو پریشان کردیا ہے جن کا سرمایہ بحریہ ٹاون میں لگا ہوا ہے ، اسٹیٹ ڈیلرز کا کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے دوبارہ زمین خریدنے کا فیصلہ ایک آخری موقع ہے امید ہے بحریہ ٹاون زمین دوبارہ

خرید لے گی ۔

بحریہ ٹاون کراچی ملک ریاض کے بہت سے پراجیکلٹس میں سے ایک ہے،ریئل اسٹیٹ ڈیلرز کو آج پورا دن عوام کی جانب سے متعدد فون کال کا سامنا رہا ۔
گلشن اقبال کے ایک اسٹیٹ ڈیلر کا کہنا تھا کہ گاہک بار بار پوچھ رہے ہیں کہ آگے کیا ہوگا۔ تاہم بحریہ ٹاون مینجمنٹ کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا جس نے خریداروں کو مزید پریشان کردیا ہے ڈیلر کا کہنا تھا کہ ہم کس طرح خریداروں کو مطمئین کریں ۔

اس حوالے سے بحریہ ٹاون کے ترجمان نے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے اجتناب کیا، بحریہ ٹاون کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے

کی بنیاد پر سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملک ریاض اپنے ساکھ کے خراب ہونے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے بلکہ دوبارہ

زمین خریدیں گے ۔

واضح رہے کہ اس معاملے میں ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کو خاصاَ فرق نہیں پڑے نہ ہی کوئی قیمت ادا کرنی پڑے گی جبکہ بحریہ ٹاون میں سرمایہ لگانے والا عام لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے ۔

ملیر کی ایک ریہائشی خاتون کا کہنا تھا کہ میرا صرف ایک پلاٹ بحریہ ٹاون میں ہے انہوں نے کہا کہ بحریہ ٹاون میں سرمایہ اس وجہ سے لگایا تھا کہ اس کا نام ہے اگر مجھے پلاٹ نہیں ملتا تو یہ ایک بہت بڑا دھچکا ہو گا۔

اس دوران کچھ اسٹیٹ بروکرز اس تشویش ناک صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، بحریہ ٹاون میں 125 گز پلاٹ کے مالک اسماعیل کا کہنا تھا کہ کچھ ماہ قبل مجھے پیسوں کی ضرورت تھی جس کے باعث میں نے اپنا پلاٹ فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ڈیلرز نے میرے پلاٹ کی قیمت 20 لاکھ آفر کی جو اصل قیمت سے 3 لاکھ زیادہ ہے تاہم انہوں انے اپنا پلاٹ فروخت نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے بعد جب ڈیلر سے رابطہ کیا تو انہوں نے اسی پلاٹ کی قیمت 17 لاکھ بتائی۔

ڈیفنس میں واقع ایک اسٹیٹ ایجنسی کے مالک فواد شاہ کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے سے اسٹیٹ کے کاروبار پر کوئی فرق نہیں پڑے گا تاہم بحریہ ٹاؤن نے اپنی ساکھ کھو دی ہے انہوں نے کہا کہ بحریہ ٹاون کے تقریبا پراجیکٹس غیر قانونی قرار دیئے جاچکے ہیں جس میں اسلام آباد اور لاہور کے پراجیکٹس بھی شامل ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube