کوئٹہ دہشت گردی کی زد میں

Samaa Web Desk
April 16, 2018
 

کوئٹہ :رواں ماہ مسیحی برادری پر دوسرےحملے کے بعدمسیحی برادری عدم تحفظ کا شکار ہوگئی ہے جب کہ مسیحی برادری کی طرف سےحکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہارکردیا گیا ہے۔

رپورٹ:ظہیر ظرف

کوئٹہ میں مسیحی برادری پر ہونے والے پے در پے حملوں کے بعد مسیحی برادری میں شدید بے چینی اور عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔ صرف اپریل کے مہینے میں ہونے والے حملوں میں مسیحی برادری کے 7 افراد کو ہلاک کیا گیا ۔

 

ٹارگٹ کلنگ کی حالیہ لہر پر سماء ڈاٹ کام سےخصوصی گفتگو کرتے ہوئےمسیحی رہنما فادر سسل نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 11/9 کے بعد کوئٹہ وار زون بنا ہوا ہے جہاں کسی بھی برادری سے تعلق رکھنے والا شخص محفوظ نہیں،حکومت کی طرف سے صرف مذمت کی خبر آنا کافی نہیں۔

 

فادر سسل کا مذید کہنا تھا کہ پاکستان میں جب تک جلاو گھیراو،توڑ پھوڑ اور ٹائر نہ جلائے جائیں تب تک کسی قسم کی شنوائی نہیں ہوتی۔ کرسچن کمیونٹی ایک پُر امن کمیونٹی ہے جو اس طرح کے کسی بھی اقدام کا حصہ نہیں بنتی۔

 

دوسری طرف واقعے میں ملوث عناصر کو منطقی انجام تک پہنچانے کے حکومتی دعوے محض دعوے ہی ثابت ہوئے ہیں ۔اس حوالے سے تا حال بلوچستان حکومت کی جانب سے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو پائی ہے۔

 

واضع رہے کہ گزشتہ تین مہینوں صرف کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ  سے سیکورٹی اداروں ،ہزارہ برادری اور مسیحی برادری کے 38 سے زائد افراد ہلاک ہوئےہیں۔

 

 

 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.