فیض آباد دھرناکیس،خادم رضوی،دیگرکیخلاف3مقدمات داخل دفتر

April 16, 2018

اسلام آباد: اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے فیض آباد دھرنا کیس کے ملزمان خادم حسین رضوی اور دیگر دھرنا قائدین کے خلاف تین مقدمات داخل دفتر کر دیئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر 5 کو مذہبی جماعتوں کی جانب سے حلف نامے میں ختم بنوت کے معاملے پر اسلام آباد کے فیض آباد انٹڑ چینج پر دھرنا دیا گیا تھا،جو بائیس روز جاری رہا۔

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت اے ٹی سی کے جج شاہ ارجمند نے کی۔ آج ہونے والی سماعت میں ملزمان خادم حسین رضوی اور دیگر دھرنا قائدین کے خلاف تین مقدمات داخل دفتر کر دیئے گئے۔

 

عدالت نے پراسیکیوشن کی استدعا پر مقدمات پر مزید کارروائی روک دی،عدالت میں جمع کرائی گئی پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقدمات کی نئے سرے سے تحقیقات کی جا رہی ہے، جس کی تکمیل پر دوبارہ چالان جمع کرایا جائے گا۔ پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ نیا چالان جمع کرائے جانے تک کیس کی سماعت نہ کی جائے۔ عدالت نے پراسیکیوٹر کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

 

اس سے قبل انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی و دیگر رہنماؤں کو مسلسل عدم حاضری پر اشتہاری قرار دیا گیا تھا، سماعت میں استغاثہ کے وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ اور چار ملزمان کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمات درج ہیں۔

 

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران سیکورٹی اداروں کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔

 

 

اسلام آباد انٹر چینج فیض آباد کے مقام پر ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی پر گزشتہ سال 2017 میں نومبر5 کو میں اسلام آباد میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے دھرنا دیا گیا تھا جو تقریباً 22 روز بعد ختم ہوا تھا۔ اس دھرنے کے مظاہرین کا موقف تھا کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں حلف نامے کے بارے میں جو ترمیم کی گئی تھی وہ ختم نبوت کے منافی تھی۔

 

اس بل کے مسودے میں احمدیوں کے بارے میں مبینہ طور پر کچھ تبدیلی کی گئی تھی تاہم بروقت نشاندہی ہونے پر اس کو ٹھیک کر دیا گیا۔ حکومت اس معاملے کو کلیریکل غلطی قرار دیتی رہی جبکہ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ تب تک دھرنا ختم نہیں کریں گے جب تک حکومت وزیرِ قانون کو برطرف نہیں کرتی۔ تقریباً ایک ماہ تک دھرنا جاری رہنے کے بعد حکومت اور اس تنظیم کے درمیان چھ نکاتی معاہدے کے بعد ختم ہوا تھا اور پاکستانی فوج نے یہ معاہدہ کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔