جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ،پاک فوج کی مذمت

April 16, 2018

راول پنڈی/ لاہور : پاک فوج کی جانب سے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی ہے، ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈز ریاستی اداروں کا تحفظ یقینی بنائیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے جاری بیان میں پاک فوج کی جانب سے جسٹس اعجاز کے گھر فائرنگ کا واقعہ قابل مذمت قرار دیا گیا ہے۔

 

آئی ایس پی آر کے مطابق ریاستی اداروں کےمؤثر کردار کیلئےتمام اسٹیک ہولڈرز کومحفوظ فضایقینی بنانی چاہیے، امن و استحکام کی بہتری کےلیے کوششیں جاری رکھی جائیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کی لاہور میں رہائش گاہ  پر ہفتہ کی رات اور اتوار کی صبح فائرنگ کے دو واقعات مختلف اوقات میں پیش آئے تھے۔

 

پولیس کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن کےگھرکےگیراج سے گولی کا سکہ ملا ہے، ملنے والا سکہ نائن ایم ایم پستول کا ہے، جسے فرانزک لیب بھجوا دیا گیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن لاہور رجسٹری میں اس وقت کئی اہم مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں، جب کہ گزشتہ روز انہوں نے سانحة ماڈل ٹاؤن کیس کی بھی سماعت کی۔ جسٹس اعجاز الاحسن پاناما ریفرنسز میں نگران جج ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن پاناما سمیت اہم مقدمات اور فیصلوں کو حصہ رہے۔

 

جسٹس اعجاز الاحسن چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم 2 رکنی بینچ میں بھی شامل ہیں۔ اسی بینچ نے گزشتہ روز سانحہ ماڈل ٹاؤن اور دیگر اہم کیسز میں اہم فیصلے جاری کیے تھے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بینچ کا حصہ تھے جس نے 28 جولائی 2017 کو پاناما سکینڈل میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے ساتھ ساتھ اُن کے اور اُن کے بچوں کے خلاف بیرون ممالک اثاثے بنانے کے الزام میں احتساب عدالتوں میں تین ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

 

جسٹس اعجاز الا حسن نااہلی کیس کا فیصلہ دینے والوں پینل میں بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی نگرانی کے لیے بھی جسٹس اعجاز الاحسن کو نگران جج مقرر کر رکھا ہے۔