صدارتی ایوارڈ یافتہ بلوچ فنکار کسمپرسی کے باعث ایوارڈز بیچنے پر مجبور

April 14, 2018

رپورٹ : ظہیر ظرف

کوئٹہ : صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکار بشیر بلوچ کسمپرسی کے باعث اپنے ایوارڈز بیچنے پر مجبور ہوگیا۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے معروف بلوچ فنکار بشیر بلوچ نے سماء سے گفتگو میں بتایا کہ کوئی یہ ایوارڈ لے کر میرے لئے 2 وقت کی روٹی کا بندوبست کردے، نام کے ساتھ بلوچ لگا ہوا ہے، اس عمر میں بھیک مانگ کر بلوچوں اور فنکاروں کو بدنام نہیں کرنا چاہتا ہوں۔

پاکستان ٹیلی ویژن کیلئے سیکڑوں گانے ریکارڈ کرانے والا لوک گلوکار بیروزگاری اور حکومتی سرپرستی نہ ملنے کے باعث انتہائی مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

بشیر بلوچ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے 2 صدور ممنون حسین اور رفیق تارڑ کے ہاتھوں سے ایوارڈز کے علاوہ 132 دیگر ایوراڈ بھی حاصل کرچکا ہوں، جن میں درہ بولان ایوارڈ، درہ خیبر ایوارڈ، مہران ایوارڈ، سلور جوبلی ایوارڈ، چولستان ایوارڈ، قائد اعظم ایوارڈ اور تقویٰ امتیاز ایوارڈ شامل ہیں۔

لوک فنکار کا کہنا ہے کہ ان کے 2 بیٹے ہیں جنہیں تعلیم دلانے کی بھی سکت نہیں رکھتا، وزیر اعلیٰ بلوچستان اور سیکریٹری کلچر ڈپارٹمنٹ کو وظیفہ جاری کرنے کیلئے بھی درخواستیں دے چکا ہوں مگر اب تک کسی قسم کی شنوائی نہیں ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں لوک فنکاروں کے ساتھ روا رکھے جانے پر انتہائی مایوس کا شکار ہوں، 8 زبانوں میں سینکڑوں گانے گائے مگر اب یہ حالت ہے کہ 2 وقت کی روٹی کیلئے بھی محتاج ہوگیا ہوں۔

بشیر بلوچ نے دل گرفتہ کیفیت میں مبتلا ہو کر کہا کہ ایسے ایوارڈ بھلا کس کام کے جو آرٹسٹ کو 2 وقت کی روٹی بھی نہ دے سکیں۔