پوسٹ مارٹم : پنجاب سڑکوں میں بڑا، اسپتالوں میں چھوٹا

Samaa Web Desk
April 9, 2018

کراچی : پنجاب کی تمام تر توجہ سڑکیں بنانے پر مرکوز ہے، اس ہی لئے اسپتالوں نظر انداز ہیں۔

سماء لاہور کے بیورو چیف احمد ولید کا کہنا ہے کہ صحت کبھی ترجیح نہیں رہی، اورنج لائن اور میٹرو پروجیکٹ کو زیادہ توجہ اور فنڈز دیئے گئے۔ وہ سماء کی خصوصی ٹرانسمیشن پوسٹ مارٹم میں گفتگو کررہے تھے۔

لاہور کے ایک رہائشی نے سماء کو بتایا کہ ملسم لیگ ن نے پنجاب میں 20 نئے اسپتال تو بنائے لیکن پرانے اسپتالوں کو یکسر نظر انداز کردیا، ہمارے حکمرانوں نے ایک بھی ایسا اسپتال نہیں بنایا جہاں وہ اپنے خاندان کے افراد کو علاج کیلئے بھیج سکیں، حکومت پنجاب اپنی کارکردگی پر 10 میں سے 5 نمبر سے زیادہ کی مستحق نہیں۔

حکومت نے گزشتہ 5 سال میں صحت کا بجٹ تقریباً دوگنا کردیا، پنجاب 230 ارب روپے اس مد میں خرچ کئے گئے۔ احمد ولید نے مزید بتایا کہ اندرون پنجاب، چھوٹے شہروں اور دیہات سے لوگ علاج کرانے کیلئے اب بھی لاہور آتے ہیں۔

صحت کے شعبے کی یہی صورتحال بلوچستان میں بھی ہے، بیورو چیف کوئٹہ جلال نورزئی نے بتایا کہ ڈیرہ بگٹی میں کچھ ہفتے قبل دو خواتین ڈسٹرکٹ اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر کی عدم موجودگی کے باعث انتقال کر گئی تھیں۔

کراچی اس حوالے سے خوش قسمت ہے، یہاں سرکاری اسپتالوں کی حالت صوبے کے دیگر حصوں کے مقابلے میں بہتر ہے۔ سماء کی بیورو چیف کراچی فریال عارف کا ایسا کہنا ہے۔

پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے موجودہ دور میں امراض قلب کے 5 اسپتال قائم کئے ہیں تاہم فریال نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ ان میں زیادہ تر یو ایس ایڈ اور پرائیویٹ آرگنائزیشنز کے تعاون سے مکمل کئے گئے ہیں۔

اس سب کے باوجود دوران زچگی خواتین کی اموات میں سندھ ملک بھر میں بلوچستان کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

فریال کا کہنا ہے کہ سیکریٹری صحت فضل اللہ پیچوہو کو چیف جسٹس ثاقب نثار کے غصے کا سامنا رہا جب انہوں نے سپریم کورٹ کے بینچ کو بتایا کہ تھرپارکر میں نومولود بچوں کی اموات غذائی قلت کے باعث ہورہی ہیں۔