کیا حکومت نے ماضی میں آنے والے ’ہیٹ ویو‘ سے سبق سیکھا؟

April 9, 2018

کراچی : گرمیاں آگئیں اور کراچی اس سال بھی ہیٹ ویو سے تپنے لگا ہے یہ کتنا خوف ناک ہے ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا۔

کراچی میں تین سال پہلے آنے والی ہلاکت خیز ہیٹ ویو نے قیامت ڈھائی تھی ، دوہزار پندرہ میں کراچی میں ہیٹ ویو کی وجہ سے وہ منظر دیکھنے کو ملے، جن کی ملکی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں، جون کی انیس تاریخ کو شروع ہونے والی اس ہیٹ ویو نے بارہ سو افراد کی زندگیاں نگل لیں، جبکہ چار ہزار افراد اس ویو سے متاثر ہوئے۔

ملیر ٹاؤن میں ایک سو ستانوے افراد جان سے گئے تھے، گلبرگ میں ایک سو ایک اور گلشن اقبال میں چوراسی زندگیاں ہیٹ ویو نے نگل لی تھیں، لیاری میں انسٹھ نارتھ ناظم آباد میں چھپن اور جمشید ٹاؤن میں پینتالیس افراد ہیٹ ویو کے ہاتھوں جاں بحق ہوگئے تھے۔

نیوکراچی میں چھتیس، اورنگی ٹاؤن میں چونتیس، کورنگی میں بیالیس اور گڈاپ میں بتیس زندگیاں ہیٹ ویو چاٹ گئی، بلدیہ میں پچس ، لانڈھی میں چوبیس، شاہ فیصل ٹاؤن میں چالیس اور صدر میں تئیس افراد نے جان کی بازی ہاری تھی، ہیٹ ویو سے سائٹ میں بارہ، کیماڑی میں تیرہ اور بن قاسم میں گیارہ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی میں فیل لائک پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوچکا تھا ہوا چل رہی تھی نہ اکثر گھروں میں بجلی تھی اور سرد خانوں میں لاشیں رکھنے کی جگہ کم پڑگئی تھی۔

تلخ تجربے کے بعد سندھ کی انتظامیہ نے کراچی میں ہیٹ ویو کے دوران رسپانس سینٹرز تو بنادیئے مگر شجرکاری کے بغیر مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔