Tuesday, September 29, 2020  | 10 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

انسانوں کے جنگل میں قدرتی جنگل

SAMAA | - Posted: Apr 2, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Apr 2, 2018 | Last Updated: 2 years ago

کراچی : اربن فورسٹ یا یوں کہیں کہ عمارتوں کے بیچوں بیچ ہرا بھرا جنگل ایک عجیب بات تو لگتی ہے، تاہم کراچی کے علاقے کلفٹن میں ماحول دوست شہری شہزاد قریشی نے اس کو ممکن کر دکھایا ہے۔

کراچی کے علاقے کلفٹن کے بلاک فائیو میں نہر خیام کے قریب ویران اور اجڑا پارک ماحول دوست شہری شہزاد قریشی کی کوششوں سے ایک ہرا بھرا قدرتی جنگل بننے کے قریب ہے۔ چار سو اسکوائر یارڈ پر محیط اس قدرتی نظارے کو مختلف اقسام کے پودوں سے مزین کرنے  کے منصوبے کا آغاز سال  2015 میں ہوا۔ ابتداء میں پینتالیس مختلف اقسام کے بارہ سو اسی پودوں سے اس جنگل کی بنیاد رکھی گئی، جس میں پھولوں، پھلوں اور سایہ دار پودے شامل ہیں۔

اس منصوبے میں جاپانی سائنسدان ڈاکٹر آکیرا کے شہر کے بیچوں بیچ قدرتی جنگل اگانے کے تجربے پر عمل کیا گیا ہے۔ پراجیکٹ یا یوں کہیں جنگل کو آباد کرنے کا مقصد ماحولیاتی آلودگی کے اثرات کو کم  اور شہر میں سبزے کا اضافہ کرنا ہے۔

لوڈشیڈنگ اور گرمیوں کی سختیاں سہتے کراچی کے باسیوں کیلئے درختوں کی کمی پورا کرتا یہ منصوبہ ایک خوشگوار ہوا کا جھونکا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پاکستان کا پہلا اربن فورسٹ یعنی عمارتوں کے جھرمٹ میں تیار ہونے والا ایک جنگل ہے، اگر کراچی کے ایسے ہی چھ ، سات پارکوں کو جنگلات میں تبدیل کردیا جائے تو شہر کا ’ایکولوجیکل لینڈ اسکیپ‘ مکمل طور پر تبدیل ہوجائے گا۔

پراجیکٹ کو مزید بہتر اور کارآمد بنانے کیلئے پاکستانی ہی نہیں جنوب ایشیائی کے دیگر ممالک میں بھی اگنے والے درختوں کو یہاں لا کر اس منصوبے کا حصہ بنایا جائے گا۔

اس پارک میں پودے کو انتہائی قریب قریب لگایا گیا ہے، تاکہ وہ ایک گھنے جنگل کا منظر پیش کر سکیں، تاہم اس جنگل کو مزید گھنا بنانے کی کوششیں جاری ہیں، تاکہ سورج کی روشنی بھی اس جنگل کے اندر نہ آسکے۔

اس تکنیک کو اپنانے اور اس پر عمل کرنے سے کوئی شک نہیں کہ کراچی ایک سرسبز شہر بن سکتا ہے۔ ایسے چھوٹے چھوٹے منصوبے بھی شہر کراچی کے پانچ چھ حصوں میں بن جائیں تو ہم کراچی کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ ہمیں تیز رفتار مصروفیات اور زندگی کی گہما گہمی میں کچھ وقت ماحول دوست کوششوں کو بھی دینا چاہیئے، جو موسم کی شدت اور آلودگی کے وار کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں۔

شہر کراچی کی فضا کو آلودگی سے پاک کرنے، ہیٹ ویو کے اثرات کم کرنے، درختوں سے نکلنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھانے اور موحولیاتی آلودگی کم کرنے کیلئے ہمیں ایسے ننھے ننھے جنگلوں کی اشد ضرورت ہے۔ دو چار ہزار ایسے پودوں کے منصوبوں سے ہم چند سال میں اس شہر کو بدل سکتے ہیں۔ اگر تمام پارکس میں ایسے جنگلات اگائے جائیں تو قائد کے شہر کے جنگلات دیکھنے والے ہونگے۔

 

اربن فارسٹ کے سربراہ کی جانب سے اس پروجیکٹ کی باقائدہ ویب سائٹ بھی لانچ کی گئی ہے، جس میں اس پروجیکٹ سے متعلق مکمل تفصیلات موجود ہیں۔ ویب سائٹ میں جاپانی سائنسدان کے قدرتی جنگل کے حوالے سے مکمل تفصیل تصاویر کی شکل میں بھی موجود ہے۔ اگر آپ بھی اس پراجیکٹ کیلئے فنڈز یا عطیہ دینا چاہتے ہیں تو ویب سائٹ پر درج تفصیلات کے ذریعہ رابطہ کرسکتے ہیں، جب کہ پروجیکٹ میں بطور والنٹر خدمات بھی انجام دے سکتے ہیں۔

اسی طرز کے ہرے بھرے جنگلات سے متعلق پراجیکٹ، کراچی گرامر اسکول، ڈریم گارڈن لاہور اور اوئیزز فارم لاہور میں بھی شروع کیے گئے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube