Wednesday, October 27, 2021  | 20 Rabiulawal, 1443

نہال ہاشمی کو ایک اور توہین عدالت کا نوٹس

SAMAA | - Posted: Mar 7, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 7, 2018 | Last Updated: 4 years ago

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان نے ن لیگی رہنما نہال ہاشمی کو ایک بار پھر توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا ہے۔ نہال ہاشمی کی وکالت کرنے والے وکیل نے بھی نہال ہاشمی کی پیروی کرنے سے انکار کردیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے ججز اور عدلیہ کے خلاف غلط...

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان نے ن لیگی رہنما نہال ہاشمی کو ایک بار پھر توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا ہے۔ نہال ہاشمی کی وکالت کرنے والے وکیل نے بھی نہال ہاشمی کی پیروی کرنے سے انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے ججز اور عدلیہ کے خلاف غلط الفظ استعمال کرنے پر ن لیگی رہنما نہال ہاشمی کو ایک بار پھر توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا، جب کہ عدالتی ریمارکس میں چیف جسٹس نے نہال ہاشمی کا لائسنس بھی معطل کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے نہال ہاشمی انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس کی جانب سے آج نہال ہاشمی کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

آج ہونےوالی سماعت کےموقع پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے نہال ہاشمی سے مخاطب کرتےہوئےکہاکہ ویڈیوچلاتے ہیں،آپ ویڈیو میں اپنی باتیں خود سن لیں ،یہ دوسرا واقعہ کیسے ہو گیا ؟اس پر نہال ہاشمی نے کہا کہ میں عدالت کی تضحیک کا تصور بھی نہیں کر سکتا ،میں نے پوری زندگی اونچی آواز میں بات کی۔

نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ توہین آمیز الفاظ میرے نہیں ،میں تو بس ایکٹنگ کر کے لوگوں کے حالات و جذبات بیان کر رہا تھا، جو میں نے کہاوہ جیل میں قیدی کہہ رہےتھے، میں نے وکلاء سے کہا لوگ جیل میں گالیاں دیتےتھے، جیل میں جو سنا وہی دہرایا، نہال ہاشمی کی یہ بات سن کر عدالت میں قہقے لگ گئے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ آج کو کالے کوٹ میں دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہےآپ کو معاف نہیں کرسکتا، جس پر نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ سرایسا نہیں ہے میں ندامت کا اظہارکرتاہوں۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ سب وطیرہ بن چکا ہے، ایسے شخص کو وکالت کا حق نہیں، چیف جسٹس نے نہال ہاشمی سے کہا کہ کیوں نہ آپ کا وکالت کا لائسنس منسوخ کردیا جائے ،اس پر نہال ہاشمی نے کہا کہ میرے بچے بھوکے مرجائیں گے تو چیف جسٹس نے کہا کہ جس کے حکم پر آپ یہ الفاظ ادا کر رہے ہیں یہ معاملہ وہ دیکھے گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کو کتنی شرمندگی ہو رہی ہے ،کیا ہم بے غیرت ہیں ،آپ کو معاف نہیں کیا جا سکتا ۔عدالت نے نہال ہاشمی کو دوبارہ توہین عدالت کا شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے12مارچ تک جواب داخل کرانے کا حکم دیا ہے ۔دوسری جانب عدالت میں نہال ہاشمی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے بھی کیس سے دستبرداری اختیار کرلی۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube