Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

عاصمہ جہانگیر بھی اپنے حصے کا کردارنبھاگئیں

SAMAA | - Posted: Feb 11, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 11, 2018 | Last Updated: 4 years ago

ولیم شیکسپیئر کا قول ہے (ان کی ایک نظم کا حصہ ) یہ دنیا ایک اسٹیج ہے جہاں تمام مرد اور عورتیں اپنا اپنا کردار نبھاتے ہیں۔ ہر آدمی اپنے وقت میں مختلف کرداراداکرتا ہے۔ ان کے آنے اور جانے کا وقت ہے۔

واقعی اس فانی دنیا میں ہر ایک کو اپنےحصے کا کردارنبھانا ہے اور چلے جانا ہے۔ آج 11 فروری 2018 کو انسانی حقوق کی سرکردہ رہنما اور پاکستان میں ہیومن رائٹس کمیشن کی با نی معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر چل بسیں۔ 27 جنوری 1952 کو لاہور مین ملک غلام جیلانی اور صبیحہ جیلانی کے گھرآنکھیں کھولنے والی عاصمہ نے 66 برس کی عمر میں دنیا سے منہ موڑا۔

عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کی سرگرم کارکن تھیں انہوں نے عدلیہ بحالی تحریک میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔عاصمہ جہانگیر کی بہن حنا جیلانی بھی سماجی خدمات کے حوالے سے شہرت رکھتی ہیں۔ عاصمہ جہانگیرحدودآرڈیننس جیسے اہم موضوع پر ریسرچ سمیت کئی کتابوں کی مصنفہ تھیں اور سپریم کورٹ بار کی سابق صدر بھی رہ چکی ہیں۔

عاصمہ پاکستان کے اداروں خصوصاً فوج پر تنقید کے لیے شہرت رکھتی تھیں۔انہوں نے ڈکٹیٹر شپ کے دور میں آنکھیں کھولیں۔ ان کے والد ملک غلام جیلانی نے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جو وہ جیت بھی گئے تھے۔ کہا جا سکتا ہے کہ ڈکٹیٹروں کی مخالفت کرنا انہیں ورثے میں ملا تھا۔ عاصمہ جہانگیر کے کریڈٹ پر ایک بڑا کام چھوٹی عمر میں اپنے والد کو جنرل یحییٰ کے دور میں جیل سے رہا کرانا تھا۔ تمام وکلاء نے زیر دباؤ آ کر کیس لڑنے سے انکار کیا تو 21 برس کی عاصمہ جو اس وقت خود طالبہ تھیں، عدالت سے کہا کہ وہ اپنے والد کا کیس خود لڑیں گی اور پهر ان کے حصے میں جیت آئی۔ مانہوں نے قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔

اپنے آپ کو عام انسانوں کا نمائندہ سمجھنے والی عاصمہ جہانگیر کو اپنی شعلہ بیانی اور حق بات پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے مخالفت کا سامنا رہا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رہائش پزیر عاصمہ جہانگیر نے کنیئرڈ کالج سے بی اے کی ڈگری لینے کے بعد جامعہ پنجاب سے وکالت کی تعلیم حاصل کی تھی۔

عاصمہ جہانگیر نے جنرل ضیاء کی جانب سے اسلامی قوانین نافذ کرنے کے فیصلے کیخلاف 1982 میں احتجاجی مارچ کیا۔سا ل 1996 میں لاہورہائیکورٹ کے ایک فیصلے میں قراردیا گیا کہ کوئی خاتون ولی کی اجازت کے بغیرنکاح نہیں کرسکتی۔ عاصمہ جہانگیر نے اس فیصلے کیخلاف وکلاء برادری کی حمایت کے ساتھ تحریک چلائی ، کیس لڑا اور مذکورہ حکم کالعدم قرار دے دیا گیا۔ عاصمہ جہانگیر حدود آرڈیننس کی سخت مخالف تھیں اس کے علاوہ توہین رسالت کے الزام میں پکڑے گئے بہت سے لوگوں کے کیسز انہوں نے مفت لڑے۔

عاصمہ جہانگیر کی وجہ شہرت میں ان کے کچھ کیسز کا بھی بہت زیادہ عمل دخل ہے۔ سال 1983 میں صفیہ بی بی نامی ایک خاتون سے زیادتی کے کیس میں گواہ نہ ہونے پرزیادتی کو رضامندی قراردیا گیا لیکن عاصمہ نے یہ کیس کامیابی سے لڑ کر خاتون کو آزادکروایا۔ اس کے علاوہ سال 1993 میں سلامت مسیح نام کے ایک نابالغ لڑکے کو توہین مذہب پرسزائے موت سنائی گئی، ایسےحساس کیس کو بھی عاصمہ جہانگیر نے جانفشانی سے لڑا۔ مذہبی انتہا پسندی کی شدید مخالف عاصمہ جہانگیرکا کہنا تھا کہ ماورائے عدالت قتل اگر طالبان کا بھی ہوا تو آواز اٹھاؤں گی۔

عاصمہ جہانگیر ہردورمیں بغاوت کا علم بلند کرتی رہیں۔ اوائل عمری میں جنرل ایوب خان اور یحییٰ خان، نوجوانی میں ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، اس کے بعد نوازشریف کے اقدامات کو بھی چیلنج کیا۔ اس کے بعد سابق صدر پرویزمشرف کو بھی ٹف ٹائم دیتی رہیں۔ سابق وزیراعظم بینظیربھٹو سے عاصمہ جہانگیر کی دوستی مثالی تھی مگر اس کے باوجود ہردور میں عاصمہ جہانگیر نے ان کی بھرپور سیاسی مخالفت کی۔ عاصمہ جہانگیر نے ڈکٹیٹڑ شپ کو عدالت سے غیرآئینی قراردلوایا، اسی وجہ سے سول مارشل لاءختم کرکے بھٹو نے آئین تشکیل دیا۔اختلافات رکھنے کے باوجود ان کی خدمات پر آصف علی زرداری نے انہیں سال 2010 میں ہلال امتیاز کے اعزاز سے نوازا جبکہ نواز شریف نے عاصمہ جہانگیر کا نام پنجاب کی نگراں وزیراعلیٰ کیلئے بھی پیش کیا تھا۔

عاصمہ جہانگیر نے زندگی کی آخری عدالتی حاضری 9 فروری کو لگائی۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی سے متعلق آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے کیس میں دلائل دیے تھے۔

سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ نے دلائل کےآغاز میں کہاتھا کہ بنیادی حقوق آئین کا دل ہے، اس دوران میں اپنے سامنے پڑی نوٹ بک پر دل بناتا رہا(منقول)۔

پاناما کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد عاصمہ جہانگیرنے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر کھل کرتنقید کی تھی۔

عاصمہ کو دل کی تکلیف پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکیں۔ انہوں نے پسماندگان مین 2 بیٹیوں اور ایک بیٹے کو چھوڑا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کےانتقال پرصدر،وزیراعظم،چیف جسٹس آف پاکستان ، ساتھیوں سمیت زندگی کے ہرشعبے سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات نے دلی رنج وغم کا اظہار کیا ۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube