Tuesday, December 7, 2021  | 2 Jamadilawal, 1443

واضح ہوگیا مسئلہ کامران ٹسوری نہیں بلکہ میری سربراہی کا ہے

SAMAA | - Posted: Feb 10, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 10, 2018 | Last Updated: 4 years ago

کراچی: متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ اصل مسئلہ کامران ٹسوری کا نہیں بلکہ میری سربراہی کا ہے اور آج اس خط کی وجہ سے بہادرآباد مرکز نہیں گیا۔ پی بی آئی کالونی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے...

کراچی: متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ اصل مسئلہ کامران ٹسوری کا نہیں بلکہ میری سربراہی کا ہے اور آج اس خط کی وجہ سے بہادرآباد مرکز نہیں گیا۔


پی بی آئی کالونی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ رابطہ کمیٹی کا الیکشن کمیشن کو خط لکھنا درست نہیں اور یہ مجھ پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ رہنما اور کارکنان عدم اعتماد کا اظہار کر دیں  میں آج ہی عہدہ چھوڑ دوں گا۔

فاروق ستار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں ٹکٹ دینے کا اختیار خالد مقبول صدیقی کو دیا گیا اور صرف یہی نہیں بلکہ دیگر الیکشن کا اختیار بھی واپس لینے کا لکھا گیا جس میں قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور 2023 میں ہونے والے بلدیات انتخابات کا ذکر ہے۔ خط  میں 26 ممبران کا حوالا دیا جا رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہے، 22 ایم پی ایز کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت موجود تھے۔ مسئلہ اگر کامران ٹسوری ہی تھا تو پھر یہ سب کیا۔

یہ بھی پڑھیئے؛ فاروق ستار کا رابطہ کمیٹی کو شوکاز نوٹس بھیجنے اور جلسے کا اعلان

فاروق ستار نے کہا کہ تاثر ديا جا رہا ہے مجھے بلانے کے باوجود میں جا نہيں رہا۔ بہادرآباد مرکز جا کر اجلاس کرنے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن میری راہ میں تین مرتبہ رکاوٹیں آئیں۔ سب سے پہلے میری غیر موجودگی میں رابطہ کمیٹی ارکان نے پہلا اجلاس اور میڈیا کانفرنس کی۔ دوسری مرتبہ اگلے دن ڈپٹی کنوینر نے بھی میڈیا سے گفتگو کر ڈالی اور آج الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط کی وجہ سے میں بہادرآباد اجلاس کرنے نہیں گیا۔ میں جانا چاہتا ہوں مجھے روک دیا جاتا ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ سینیٹ کے ناموں کے لئے ثالثی کمیٹی میں فارمولا یہ طے ہوا تھا کہ دیے گئے پانچ یا چھ نام نکال کر نئے نام دیئے جائے اور میں نے یہ فارمولا قبول کرلیا تھا۔ رابطہ کمیٹی ارکان کے کچھ ایکشن ہمارے درمیان دیوار کھڑی کر رہے ہیں اور میں اس دیوار کوختم کرنا چاہتا ہوں۔ نئے نام دینے پر اتفاق ہوگیا تھا، میری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں۔ خط کا جواب آجائے گا میں وہاں چلا جاؤں گا۔

فاروق ستار نے کہا بہادرآباد اور پی آئی بی دونوں جگہ ایم کیوایم کے لوگ ہیں اور مجھے اچھا نہیں لگ رہا کہ میں پی آئی بی میں بیٹھا ہوں لیکن غیر آئینی اقدام کے بعد رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں جا کر کیا بات کروں گا؟ مجھ پر ٹکٹ کی بندر بانٹ کا الزام لگایا گیا۔ میری محبت اور خلوص کو ترازو میں تولا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا میرا مسئلہ میری عزت نفس، عمل داری اور سربراہی کا ہے، میرے پاس وہ ڈنڈا نہیں جو بانی متحدہ کے پاس تھا۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube