شہید حسن ظفر عارف کے نام

January 15, 2018

کراچی : ایم کیو ایم لندن کے شہید سینیر رہنما حسن ظفر عارف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے ایک مداح کی جانب سے یہ ویڈیو جاری کی گئی ہے۔

پوسٹمارٹم

ایم کیو ایم لندن کے ڈپٹی کنوینر حسن ظفر عارف کا پوسٹ مارٹم جناح اسپتال میں اتوار کے روز مکمل کیا گیا۔ پوسٹ مارٹم جناح اسپتال کے ایم ایل او ڈاکٹر شیراز خواجہ اور ڈاکٹر سونو مل نے کیا۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں 72 سالہ حسن ظفر کی موت کی وجہ طبعی قرار دی گئی ہے، لاش سے نمونے حاصل کرکے کیمیکل ایگزامینر کو بھجوادیئے گئے ہیں۔

کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ آنے میں دو ہفتے لگ سکتے ہیں، پوسٹ مارٹم کے بعد حسن ظفر کی میت چھیپا ویلفیئر سرد خانے منتقل کر دی گئی ہے۔ پوسٹ مارٹم کے مطابق پروفیسر حسن ظفر عارف کی موت ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب کسی وقت ہوئی، پوسٹ مارٹم شروع کرتے وقت موت کو 8 سے 16 گھنٹے ہو چکے تھے۔

پولیس کے مطابق پروفیسر حسن ظفر عارف دل کے مریض تھے۔ ڈاکٹرز کے مطابق دل کے مریض کے انتقال کے بعد ناک سے خون آنا عام بات ہے، پروفیسر حسن ظفر عارف کی لاش پر تشدد کا کوئی نشان نہیں ملا۔

ڈاکٹرز کا مزید کہنا ہے کہ دل کے مریض کو کسی کمرے میں بند کر دیا جائے تو موت واقع ہو سکتی ہے، تشدد سے ڈرایا دھمکایا جائے تو بھی دل کا مریض مر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دل کے مریض کی حبس بے جا میں موت بھی قتل کے زمرے میں آتی ہے۔

پس منظر

ایم کیو ایم لندن کے سینیر رہنما اور جامعہ کراچی کے سینیر پروفیسر حسن ظفر عارف کی لاش ابراہیم حیدری کے علاقے سے علی الصبح اتوار کے روز ان کی گاڑی کی عقبی سیٹ سے برآمد کی گئی تھی۔

حسن ظفر عارف کون ؟؟

ڈاکٹر حسن ظفر عارف22اکتوبر 2016ء میں اس وقت منظر عام پر آئے جب ایم کیوایم لندن کے سینئر رہنما کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے آئے تو رینجرز اورپولیس کی بھاری نفری نے ان کو گرفتار کر لیا ،میڈیا میں ڈاکٹر حسن ظفر عارف کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ کراچی یونیورسٹی میں پروفیسر رہے ہیں، مقتول ڈاکٹر حسن ظفر عارف کا ایم کیو ایم سے کوئی بہت زیادہ پرانا تعلق نہیں ،انہوں نے 15مئی 2016ء کو ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی ،یہ وہ وقت تھا جب ڈاکٹر فاروق ستار نے الطاف حسین اور ایم کیو ایم لندن سے اعلان لاتعلقی کیا ،ان کی شمولیت کے فوری بعد الطاف حسین نے انہیں ایم کیو ایم لندن کا عبوری رکن نامزد کیا گیا تھا ۔بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہونگے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی پہلی بار وطن واپسی کی تحریک کو کامیاب بنانے میں اہم کردار اداکرنے والوں میں پروفیسر حسن ظفر کا نام سر فہرست تھا جنہوں نے پس پردہ رہتے ہوئے بی بی بے نظیر کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا۔1985ء میں دائیں بازو کے نظریات رکھنے کی پاداش میں انہیں کراچی یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا ۔نجی ٹی وی کے مطابق 80 کی دہائی میں جب صدر پاکستان ضیا الحق کے خلاف کراچی کے ریگل چوک پر مظاہرہ کیا جارہا تھا اس مظاہرے کو روکنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری ریگل چوک کے اطراف موجود تھی، اعلیٰ حکام کی جانب سے مظاہرہ پر دھاوا بولنے کے احکامات ملتے ہی پولیس مظاہرین پر ٹوٹ پڑی، اس مظاہرے کی خاص بات یہ تھی کہ پولیس نے کراچی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو گریبان سے پکڑ کر گاڑی میں ڈالاتو دوسرے دن کے اخبارات نے گرفتار شخص کی تصویر پر یہ عنوان لکھا ہوا تھا’’ ڈی ایس پی بمقابلہ پی ایچ ڈی‘‘ اس تصویر کو بعد میں انعام کا حق دار بھی ٹھہرایا گیا۔ایم کیو ایم لندن میں ڈیڑھ سالہ رفاقت کے بعد پروفیسرڈاکٹر حسن ظفر عارف کا سیاسی کیئرئیر اور زندگی کا ہی اختتام ہو گیا۔ سماء