جنید جمشید کاجہاز کیوں گراتھا؟

December 7, 2017

اسلام آباد:سانحہ حویلیاں کو ایک برس بیت گیا مگرطیارہ حادثے کی تحقیقات مکمل نہیں ہوسکیں۔۔ جہاز کیوں گرا؟ فنی خرابی تھی یا انسانی غلطی؟ کئی سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔حادثے میں جنید جمشید سمیت اڑتالیس افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

سات دسمبر دو ہزار سولہ کی شام کو پی آئی اے کی پرواز ڈبل سکس ون کو حویلیاں کے قریب بدقسمتی نے آ لیا۔ موت کی طرف بڑھتے پائلٹ نے آخری بار کنٹرول ٹاور سے رابطہ کیا انجن فیل ہونے کی اطلاع دی اور پھر، دکھ کے سائے گِھر آئے۔

سانحہ کو پیش آئے ایک سال گزر گیا لیکن حادثہ کیسے اور کیوں پیش آیا؟ طیارے میں کوئی خرابی تھی تو فٹنس سرٹیفیکیٹ کس نے دیا تھا؟بہت سے ایسے سوالات ہیں جن کے جواب آج تک نہیں ملے۔ تفتیش کے گھوڑے دوڑانے والے ابھی تک منزل سے بہت دور نظر آتے ہیں۔

گروپ کیپٹن ریٹائرڈسلطان محمود حالی کا کہنا ہے کہ فضائی حادثے کی تحقیقات میں بلیک باکس کا ڈیٹا کو ڈی کوڈ کرنے کی پاکستان میں سہولت نہیں ہے۔ یہ سہولت فرانس یا اٹلی میں دستیاب ہے۔ اور اس کام میں طویل وقت درکارہوتا ہے۔

اس اہم معاملے پر سول ایوی ایشن حکام نے بھی منہ پر تالے لگا رکھے ہیں سماء نے بار بار جاننے کی کوشش کی مگر انتظامیہ موقف دینے کو تیارنہیں۔

اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کی تحقیقات میں جہازکے بائیں طرف لگے انجن کی خرابی کی تصدیق ہوئی ہے جس کے باعث جہاز کا الیکٹریکل سسٹم جزوی طور پر ناکارہ ہوگیا تھا، ٹرانسپونڈر نے کام کرنا چھوڑ دیا تو ریڈار سے بھی ناطہ ٹوٹ گیا ۔ ذرائع کے مطابق جہاز روٹ سے ہٹا تو کھلی فضا میں ڈولتا رہا اور جلد ہی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔

حکام کے مطابق حادثے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ آئندہ سال اپریل میں جاری کی جائے گی۔ سماء

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.