امیر زادوں کے ہاتھوں ایک اور بے گناہ لڑکا قتل

December 4, 2017

تحریر : امبرین سکندر

کراچی : جنگل کے قانون کی طرح ملک میں بگڑے نوابوں اور امیر زادوں کے ہاتھوں غریب اور بے گناہ افراد کا قتل کوئی نئی بات نہیں، تاہم ہر بار قتل کی خبر میں قصہ ضرور نیا ہوتا ہے، کبھی ذاتی رنجش تو کبھی تیز رفتاری میں آگے نکلنے کی جلدی، کبھی پیار کا معاملہ تو کبھی شہرت کی طلب، یہ رئیس زادے ملک کے عام افراد کو اپنے خریدے گئے غلام سمجھنے لگے ہیں۔

اتوار کے روز صبح سوا نو بجے کے قریب مرکزی کلفٹن کی سڑک دو دریا کے پاس بھی کچھ ایسا ہی ہوا، جب اپنے دم خم اور غرور میں مبتلا امیر زادوں نے دن دیہاڑے اٹھارہ سالہ نوجوان کی جان لے لی۔

قصہ اتنا مختصر سا تھا کہ بس دو دریا کے مقام پر تیز رفتار ہیوی بائیک گاڑی سے ٹکرا گئی، مگر غریب کیلئے یہ غضب ہوگیا۔ پولیس کے مطابق ہیوی بائیک چلانے والے کا نام ڈاکٹر رحیم ہے، جس کی تیز رفتاری کے باعث گاڑی سے ٹکر ہوئی۔ اس پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوئی، بعد ازاں بائیک سوار شخص نے فون کرکے اپنے دوستوں کو بلایا، جو فوری ڈبل کیبن گاڑی ویگو میں سوار ہو کر آئے اور تکرار کے بعد فائرنگ شروع کردی۔

بگڑے رئیس زادے نے دوستوں کے ساتھ مل کر گاڑی سوار نوجوان اور اس کی گاڑی پر گولیوں کی بھر مار کر دی، پولیس کے مطابق ویگو گاڑی میں سوار خاور برنی نے اپنی نائن ایم ایم پستول سے گاڑی اور دونوں نوجوانوں پر چودہ سے بیس گولیاں فائر کیں۔ جس سے 18 سالہ ظافر اور اس کا دوست زید شدید زخمی ہوگئے۔ ظافر کو تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران علاج چل بسا۔ اسی حملے میں فائرنگ کی زد میں آکر تین دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔

 

ملزم خاور برنی:

واقعے کے کئی گھنٹے بعد شام 4 بجے پولیس نے اٹھارہ سالہ نوجوان ظافر کو قتل کرنے والے اور ویگو میں سوار ہو کر آنے والے ملزم کی شناخت خاور برنی کے نام سے کرلی، جسے پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پی ای سی ایچ ایس کے علاقے خالد بن ولید روڈ پر چھاپہ مار کر ساتھیوں سمیت گرفتار کیا۔ گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان میں سے تین کی عمر 15 سال کے لگ بھگ ہے۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور واردات میں استعمال ہونے والی ڈبل کیبن گاڑی بھی برآمد کرلی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے دو خول ملے ہیں اور گاڑی پر 7 سے 8 گولیوں کے نشانات ہیں جب کہ اطراف سے سی سی ٹی وی ویڈیو بھی حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

نوجوان کو قتل کرنے والے خاور برنی کی سرگرمیاں بھی منظر عام پر آگئی ہیں، ملزم برنی آٹوز کا مالک ہے جبکہ اسے خودکار اسلحے اور ہیوی بائیکس کا شوق بھی ہے۔ وہ سرعام اپنے اسلحے کی نمائش کرتا ہے جبکہ کسی بھی فرد نے آج تک اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔

فیس بک پر ایک شخص نے ملزم کی تصاویر اپ لوڈ کی ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ملزم خاور برنی نے اے لیول کے چار طلبہ کو گولیوں کا نشانہ بنایا جس میں سے ایک جاں بحق ہوگیا، جب کہ دیگر طلبہ شدید زخمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاور برنی کا مرسڈیز گاڑی کے ساتھ ایکسیڈینٹ ہوا جس میں چار اے لیول کے طالب علم سوار تھے، جن کی عمریں 17سے 18سال کے درمیان تھیں۔

دوسری جانب ملزمان کو پولیس کی جانب سے ساحل تھانے میں وی آئی پی پروٹوکول فراہم کیا جارہا ہے اور اے سی کمرے میں رکھا گیا ہے۔ مرکزی ملزم خاور کا والد اشتیاق برنی شہر کا سب سے بڑا کار ڈینٹرپینٹر اور اثرو رسوخ کا حامل ہے۔ ساحل تھانے میں ملزمان کے لئے خصوصی کھانوں اور ناشتوں کا اہتمام کیا جارہا ہے اور مقدمے میں انسداد دہشتگردی کی دفعہ نہ لگا کر کیس کو معمولی بنادیا گیا ہے۔

مقتول کے اہلِ خانہ کی اپیل کے باوجود پولیس نے مقدمے میں صرف قتل اور اقدامِ قتل کی دفعات شامل کی ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ ‎ کراچی پولیس دباؤ کا شکار ہے یا پیسے کی چمک کے آگے ڈھیر ہوگئی ہے۔ مقتول کے لواحقین کے وکیل ایڈوکیٹ جاوید چھتاری نے کہا کہ دہشتگردی کی دفعہ نہ لگا کر ملزم کو رعایت دی گئی، کوئی جرم جو عوام کے سامنے کیا جائے اور خوف پھیلے، وہ دہشت کی علامت ہے، اس واقعے سے بھی دہشت گردی اور خوف پھیلا ہے۔

جاں بحق ہونے والا اٹھارہ سالہ نوجوان ظافر ڈی ایچ اے کالج میں فرسٹ ایئر کا اسٹوڈنٹ اور ڈیفنس کا رہائشی تھا۔ مقتول ظافر کے قتل کا مقدمہ اس کے والد کی مدعیت میں درج کر لیا گیا۔ ایف آئی آر نمبر ایک سو بائیس میں قتل اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ سماء

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.