ٹیکسلا؛انوکھی سرنگیں جہاں فصلیں اگتی ہیں

November 12, 2017

ٹیکسلا: سرنگیں ویسے تو دشوارگزار پہاڑوں میں راستے کے طور پر بنائی جاتی ہیں لیکن ہم آپ کو لے کرچلتے ہیں ایسی سرنگوں میں جہاں ہری بھری فصلیں لہلہا رہی ہیں۔

ٹیکسلا میں اونچے نیچے پہاڑوں کے ساتھ بنی یہ مصنوعی سُرنگیں پانچ ایکڑ رقبے پر پھیلی ہیں۔ اس علاقے میں پانی کی کمی کے باعث زرعی پیداوارکاحصول پہلے مشکل تھا مگر ان سرنگوں کی بدولت اب آسان ہو گیا ہے۔

ب

ٹنل فارمنگ کا پہلا تجربہ پنجاب حکومت نے کیا۔ اب کسانوں کو اس پر سبسڈی بھی دی جاتی ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر چوہدری عبدالغفارکے مطابق ڈرپنگ ٹیکنالوجی میں 60 فیصد حکومت دے رہی ہے، 40فیصد کسان کا ہے۔جبکہ ٹنل میں 50 فیصد گورنمنٹ اور 50 فیصد کسان۔ کا ہے۔ ان سرنگوں کو چلانے کے لیے سولر سسٹم ہے جس کے لیے80 فیصد گورنمنٹ دے رہی ہے جبکہ بقیہ 20 فیصد کسان اپنی جیب سے دیتا ہے۔

اس پہاڑی علاقے میں کسانوں کو زراعت کے لیے پانی کی کمی کا سامنا تھا مگر ٹنل کے ساتھ ڈرپنگ ٹیکنالوجی نے یہ مسئلہ حل کردیا۔اب ان ٹنلز میں غیر موسمی اجناس بھی پیدا کی جاسکتی ہیں۔۔۔سرنگ میں لگے کھیروں کو متواتر پانی بھی مل رہا ہے۔

عام فصلوں کی نسبت ٹنل فارمنگ میں اگنے والی فصلیں نہ صرف بیماریوں اور شدید موسمی اثرات بلکہ کیڑوں مکوڑوں سے بھی محفوظ رہتی ہیں۔ بلاشبہ موسمیاتی تغیرات کی بدولت مختلف علاقوں کو پانی کی کمی کا سامنا ہے جن کے لیے ٹنل فارمنگ ایک اچھا اقدام ہے۔ سماء

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.