اسٹیبلشمنٹ نے بلا کر فاروق ستار کیساتھ پریس کانفرنس کرائی

November 11, 2017

کراچی : پی ایس پی کے رہنما مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ  نے بلا کر ہمیں فاروق ستار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرائی۔ فاروق ستار پہلے سے وہاں موجود تھے، ہم سامنے بات کرنے والے لوگ ہیں۔

کراچی میں پاک سرزمین کے دفتر میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں دو دن کے درمیان ہونے والی سیاسی ہلچل پر لب کشائی کردی۔ مصطفی کمال نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم پہلے بھی الطاف حسین کی تھی اور اب بھی ہے، فاروق ستار تاثر دے رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ پی ایس پی سے سب کچھ کرا رہی ہے، 62 گھنٹے سے کامیڈی شو رک نہیں رہا تھا، مجبور ہو کر جواب دینا پڑافاروق ستار نے اسٹیبلشمنٹ سے کہہ کر ہمیں بلایا، فاروق ستار ٹح ماہ سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، فاروق ستار سچ تو بولتے نہیں، جھوٹ بھی آدھا بولا، تسلیم کرتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر فاروق ستار سے ملا، اگر میری یا میری پارٹی پاکستان کیلئے خطرہ ہے تو اسے ختم کردیتا ہوں، ایم کیو ایم پاکستان کے ہر بیان میں ہمیں یہ اسٹیبلشمنٹ کا کارندہ کہا گیا، آج میں پہلی دفعہ زبان کھول رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کئی گھنٹے سے کامیڈی شو چل رہا تھا، سارا ڈرامہ ختم ہونے کا انتظار کررہے تھے، آف دی ریکارڈ آپ لوگوں کو سب کچھ پتا ہے، ہم سامنے بات کرنے والے لوگ ہیں، کہا جا رہا ہے کہ مشترکا پریس کانفرنس اسٹیبلشمنٹ نے کروائی، اسٹیبلشمنٹ نے فاروق ستار سے بلا کر ملوایا، کل رات سے گورنر کا ایک بیان چل رہا ہے، فاروق ستار نے گورنر کو بتایا کہ مجبوری میں کام کروایا جا رہا ہے، ایسے بتایا گیا کہ پریس کانفرنس سے ایک رات پہلے فاروق ستار کو اغوا کیا گیا، اغوا کے اگلے دن زبردستی پریس کانفرنس کروائی گئی، فاروق ستار نے تاثر دیا پی ایس پی کو اسٹیبلشمنٹ چلارہی ہے، فاروق ستار ہمیں اسٹیبلشمنٹ سے کال کروا کر بلاتے ہیں، لاپتا بچوں کیلئے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرتا ہوں، 8ماہ سے فاروق ستارہم سےمیٹنگ کررہےتھے، پی ایس پی کوایم کیوایم میں شامل کروانے کی بات کرتے تھے، میں لڑائی نہیں کرتا،نہ ہی لڑوں گا، فاروق ستارکی ٹیم کے سامنے کہا کہ پارٹی ختم کردوں گا۔

مصطفیٰ کمال نے بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ فاروق ستار کو پتا ہے کہ عمران فاروق کا قتل کس نے کرایا، مگر فاروق ستار نے آج تک زبان نہیں کھولی۔ مصفطیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اگر وہ اتنے ہی سچے ہیں تو عمران فاروق کی قبر پر کھڑے ہو کر الطاف حسین کو بد دعا ہی دے دیں، سب کو پتا ہے کہ عمران فاروق کا قاتل الطاف حسین ہے، ہم خاموش رہے تو ہمیں ایجنڈ قرار دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کون سا صحافی یا سیاستدان ہے جو اسٹیبلشمنٹ سے بات نہیں کرتا ۔ ’ میں سب سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرتا ہوں لیکن اس کا ایجنٹ نہیں ہوں ، اگر ایجنٹ ہوتا تو سینیٹر شپ نہ چھوڑتا بلکہ ایم کیو ایم میں رہ کر ایجنٹ بنتا، اگر انیس قائم خانی نے ایجنٹ بننا ہوتا تو وہ رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینئر کے عہدے پر رہتے ہوئے ایجنٹ بنتے‘۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ فاروق ستار نے ایک ایک اینکر اور صحافی کو فون کرکے یہ سمجھایا ہے کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ اغوا کرکے لی گئی تھی لیکن ذرا سی سخت بات کرتا ہوں تو یہ اسٹیبلشمنٹ سے شکایت کردیتے ہیں اور ہمیں کال آجاتی ہے کہ بھائی ذرا سا ہاتھ ہلکا رکھو۔

انہوں نے کہا کہ الائنس ہمیشہ دو پارٹیوں میں ہوتا ہے ، وہ ایم کیو ایم کو مانتے ہی نہیں ہیں تو الائنس کس سے کررہے تھے، اگر ایم کیو ایم نام ہوتا تو بول دیا جاتا۔ پہلے ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی میں باضابطہ طور پر میٹنگ ہوئی جس میں پریس کانفرنس میں کی جانے والی باتیں بھی طے پائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس خواجہ اظہار الحسن کے ہاتھ کا لکھا ہوا پرچہ موجود ہے جس میں ہدایات لکھی ہوئی ہیں کہ پریس کانفرنس میں کیا بات کرنی تھی۔ ’اس پرچے میں کہیں مہاجر اتحاد یا حقیقی کا نام نہیں ہے، اس میں یہ بھی نہیں لکھا ہوا کہ یہ الائنس ہوگا‘۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ بائیس اگتس کو پاکستان کے خلاف نعرے لگانے والے کو جواب میں جی بھائی جی بھائی کہا گیا، غداری کے ملزم کا ساتھ دینے والے کو رینجرز ہیڈکواٹرز میں آٹھ گھنٹے بٹھا کر رکھا اور وہ جب باہر نکلا تو پارٹی کا سربراہ بن گیا۔ سماء

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.