Thursday, December 2, 2021  | 26 Rabiulakhir, 1443

ایم کیو ایم، پی ایس پی کا ایک نام، نشان، منشور سے الیکشن لڑنے کا اعلان

SAMAA | - Posted: Nov 8, 2017 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 8, 2017 | Last Updated: 4 years ago

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی نے ایک ہونے کا فیصلہ کرلیا، ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال نے ایک جماعت بنانے کا اعلان کردیا، ایک انتخابی نشان اور ایک منشور کے تحت انتخابات میں حصہ لیا جائے گا۔ ایم کیو ایم پاکستان سربراہ بولے کہ نئی جماعت کا مقصد ووٹ...

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی نے ایک ہونے کا فیصلہ کرلیا، ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال نے ایک جماعت بنانے کا اعلان کردیا، ایک انتخابی نشان اور ایک منشور کے تحت انتخابات میں حصہ لیا جائے گا۔ ایم کیو ایم پاکستان سربراہ بولے کہ نئی جماعت کا مقصد ووٹ بینک کو تقسیم، تشدد اور تصادم روکنا اور دیرپا امن قائم کرنا ہے، نئے نام کا فیصلہ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی مشاورت سے جلد کیا جائے گا۔ پی ایس پی سربراہ بولے کہ نئی جماعت کا نام کچھ بھی ہوگا ایم کیو ایم نہیں ہوگا، شہر قائد میں رہنے والی تمام قومیتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے، لاشوں کی سیاست نہیں کرنا چاہتے، ماؤں کی بددعائیں نہیں لے سکتے۔ سابق ناظم کراچی نے ڈاکٹر فاروق ستار، ان کے ساتھی اور کارکنوں سے معذرت کرلی۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس پی کے تمام دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ ایک مثبت اقدام کیلئے ہماری درخواست پر یہاں آئے، کراچی اور سندھ بہت سارے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں، کراچی سمیت سندھ کی شہری آبادی کے ووٹ بینک کی تقسیم کو روکنا، عدم تشدد و عدم تصادم کی پالیسی کو کامیاب بنانا اور امن کو دیرپا امن میں تبدیل کرنا ہمارے مقاصد ہیں۔

وہ بولے کہ کسی بھی سیاسی اختلاف کو لے کر ہر حال میں بدامنی کو روکنا ہوگا، سیاسی تشدد کسی حال میں کراچی میں گھر کرنے سے روکنے کیلئے پی ایس پی اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان مشاورتی عمل جاری تھا، ان مقاصد کے حصول کیلئے ہم نے فیصلہ کیا کہ مل جل کر سندھ بالخصوص کراچی کے عوام کی خدمت کریں اور ان کے مسائل حل کریں جس کیلئے متحدہ کوشش کی جائے، اس کیلئے بہترین ورکنگ ریلیشن شپ اور سیاسی اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں۔

 فاروق ستار بولے کہ کراچی تین کروڑ آبادی کا شہر ہے، مسائل کے حل کیلئے مثبت کوشش اور مثبت سوچ کی ضرورت ہے، مہاجروں کا ووٹ بینک تقسیم کرنے کیلئے شہری آبادی پر سندھ کے وڈیروں کے غاصبانہ قبضے کو ختم کرائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اتحاد کا نام جلد ہی مشاورت سے طے کرلیا جائے گا، آئندہ چند روز میں نام کا اعلان بھی مشاورت سے کریں گے، ایک انتخابی نشان اور منشور کے ساتھ الیکشن میں حصہ لیں گے۔ کراچی کو اس کا کھویا ہوا مقام اور شہریوں کو ان کا حق دلوانا چاہتے ہیں۔

پی ایس پی سربراہ مصطفیٰ کمال ایم کیو ایم بانی متحدہ کی تھی ہے اور رہے گی، اب جو بھی شناخت ہوگی ایم کیو ایم نہیں ہوگی، اس بات کو تسلیم کرنے پر ڈاکٹر فاروق ستار کو سلام پیش کرتا ہوں، ابھی نام کا فیصلہ نہیں ہوا تاہم یہ طے ہوگیا کہ ایک نام، ایک منشور اور ایک انتخابی نشان پر عوام کی خدمت کریں گے۔

وہ بولے کہ ایک دن شہر بند ہو تو نقصان مہاجرون خا ہوتا ہے، مہاجروں کی خاطر مہاجر سیاست نہیں کرنا چاہتا، مہاجر کے نام پر سیاست کی تو دشمنیاں ہوجائیں گی، ہم نے انسانوں کے فائدے کو مقدم رکھا، شہر میں دیگر قومیتیں بھی آباد ہیں، ہر کسی کو ایک دوسرے کے علاقوں میں آزادی سے جانے کی اجازت ہونی چاہئے۔

سابق ناظم کراچی نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام کیلئے ہم اپنے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹے، مجھے پیچھے ہٹنے میں کوئی پرابلم نہیں، پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کو مقدم رکھا، ایسی سیاسی قیادت نکالنا چاہتے ہیں جو روشنی کا سفر طے کرے، ایم کیو ایم کارکنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اپنی قیادت کے فیصلے کی تائید کی، ایک ایک کارکن کی تائید ہمارے ساتھ شامل ہے، ہم نے ضد نہیں کی تمام آپشن کھلے رکھے، آج ایک تاریخی بندھن میں بندھنے جارہے ہیں، ایسی مثال قائم کرنے جارہے ہیں جہاں ذاتی مفاد نہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مردم شماری کو نہیں مانتے، اگر لوگوں کی گنتی ٹھیک نہیں کرسکتے تو کچھ بھی ٹھیک نہیں کرسکتے، کراچی اور حیدرآباد کی 70 لاکھ آبادی کو کم کردیا گیا یہ نا انصافی ہے، اس کیخلاف مل کر کھڑے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھٹکے ہوئے دوسرے علاقوں کے بچوں کیلئے عام معافی کا اعلان کرکے انہیں 5، 5 لاکھ کے چیک دیئے جاتے ہیں، ہمارے بچوں کو بھی معاف کریں، ان کیلئے بھی ایسا کوئی پیکیج لائیں، میں اور فاروق بھائی اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے بھٹکے ہوئے بچوں کو بھی معاف کیا جائے، ایک بار ایسا کرکے دیکھیں اگر پھر بھی کوئی غلط کام کرتا ہے تو ہم خود اس کو فورسز کے حوالے کریں گے۔

پی ایس پی سربراہ نے کہا کہ اگر میری باتوں سے کسی کی دل آزادی ہوئی ہے تو میں معافی مانگتا ہوں، ایم

بھی کیو ایم کارکنان سے بھی معافی مانگتا ہوں، ہم الطاف حسین کی ایم کیو ایم کو دفن کرنے جارہے ہیں، کھلے دل سے فاروق بھائی اور ان کے ساتھیوں اور کارکنوں سے دل آزاری پر معذرت چاہتا ہوں، آپ کے ساتھ آگے چلنے کیلئے ہر وقت تیار رہیں گے۔

ڈاکٹر فاروق ستار، وسیم اختر، فیصل سبزواری سمیت ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین بھی پریس کانفرنس میں موجود ہیں، متحدہ پاکستان کے رہنماؤں کو طویل وقت مصطفیٰ کمال کا انتظار کرنا پڑا۔

پی ایس پی سربراہ مصطفیٰ کمال کے ساتھ رضا ہارون اور انیس قائم خانی بھی پریس کانفرنس کیلئے پریس کلب پہنچے، سابق ناظم کراچی گاڑی میں کافی دیر تک کسی سے فون پر بات کرتے رہے۔

مصطفیٰ کمال کارکنوں کے گھیرے میں پریس کلب میں داخل ہوئے، کارکنوں نے سابق ناظم کراچی کے حق میں نعرے بازی بھی کی، اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں نے نعروں کا جواب بھرپور نعروں سے دیا۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube