پاک افغان سرحد پرجاسوس طیاروں کاحملہ،ہلاکتوں کی تعداد 26ہوگئی

SAMAA | - Posted: Oct 17, 2017 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Oct 17, 2017 | Last Updated: 4 years ago

کرم ایجنسی، کنڑ: پاک افغان سرحد پر ملحقہ علاقوں میں چوبیس گھنٹوں کے دوران دو امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 26 ہوگئی ہے۔ امریکی جاسوس طیاروں نے پاکستان میں کرم ایجنسی اور افغانستان میں کنٹر کے علاقوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز اور اے ایف پی کے مطابق کرم ایجنسی سے ملحقہ افغان سرحدی علاقے میں ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 26 ہوگئی ہے، جب کہ حملوں میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

مقامی ذرائع کے مطابق امریکی ڈرون طیاروں نے کرم ایجنسی سے متصل افغان علاقے نری کنڈاؤ میں ایک گھر کو نشانہ بنایا جس سے مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ڈرون طیاروں نے حقانی نیٹ ورک کے جنگجو کے زیر استعمال گھر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا، جب وہاں حقانی نیٹ ورک کا اجلاس جاری تھا۔ حملے کے بعد ملبے سے کئی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جب کہ کئی افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

امریکی جاسوس طیارے گھر پر 4 سے 6 میزائل داغے۔ حملے میں ابتدائی طور پر 5 افراد کی ہلاکت کی اطلاع تھی تاہم صبح تک غیر ملکی خبر رساں ایجنسیز کے مطابق ہلاک افراد کی تعداد 26 تک پہنچ گئی ہے۔ پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے سے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہے اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ڈرون حملہ پاکستانی علاقے میں ہوا ہے یا افغانستان میں، تاہم اگر یہ حملہ پاکستانی علاقے میں ہونے کی تصدیق ہوگئی تو یہ نئے امریکی صدر ٹرمپ کے اقتدار میں انے کے بعد چوتھا میزائل حملہ ہوگا۔

ایک سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ روز کئی گھنٹے سے 3 ڈرون طیارے محو پرواز تھے جن میں سے ایک نے مقبل کے علاقے میں ایک کمپاؤنڈ پر میزائل فائر کیے جس سے کمپاؤنڈ ملبے کا ڈھیر بن گیا اور اس میں موجود افراد ہلاک ہوگئے تاہم فوری طور پر ان کی شناخت نہیں ہوسکی۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ حملے کا ٹارگٹ حقانی نیٹ ورک کا کمانڈر ابوبکر تھا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق یہ حملہ اس سال کا سب سے بڑا حملہ ہے۔ خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ پہلے حملے کے بعد جیسے ہی لوگ ملبے سے لاشیں نکالنے کیلئے جمع ہوئے اس کے فورا بعد ہی امریکی جاسوس طیارے سے دوسرا ڈرون حملہ کیا گیا۔

 

دریں اثنا پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر )سے جاری بیان کے مطابق اطلاعات ہیں کہ فضائی حملہ لوئر کرم کے قریب افغان علاقے میں ہوا، پاکستان میں حملہ نہیں کیا گیا، بمباری کی آوازیں پاکستان کے علاقے میں ضرور سنی گئی ہیں۔

 

واضح رہے کہ یہ ڈرون حملہ کرم ایجنسی میں پاک فوج کے اس آپریشن کے بعد کیا گیا ہے جس میں کینیڈین امریکی جوڑے اور ان کے3 بچوں کو بازیاب کرایا گیا تھا اور اغواکار مغویوں کو چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے، چند روز قبل ان اغوا کاروں کی تلاش میں مصروف پاک فوج کے چار اہلکاروں بارودی سرنگ کی زد میں اکر شہید ہوئے تھے، جس میں ایک کیپٹن حسنین بھی شامل تھے۔ سماٗ

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube