خزانوں میں اضافہ،اسحاق ڈارکی 8گھنٹےطویل پیشی

October 12, 2017

اسلام آباد: وزیر خزانہ کے خزانوں میں ہوشرہا اضافے کی کھوج لگانے کیلئے احتساب عدالت میں آٹھ گھنٹے طویل سماعت ہوئی ۔ استغاثہ کے دو گواہوں کے بیانات قلمبند کئےگئے۔ ایک گواہ نے وزیر خزانہ کے پانچ اکاؤنٹس کی تفصیل پیش کی تو دوسرا سرمایہ کاری کا کچہ چھٹہ کھولنے میں مصروف رہا ۔ طویل سماعت نے اسحاق ڈار اور وزرا کو اونگھنے پر مجبور کردیا۔

وزیر خزانہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام، چوتھی پیشی طویل ترین ثابت ہوئی اور8 گھنٹےتک جاری رہی۔نیب کے گواہ بینک ملازم طارق جاوید نے 9 بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کرائیں۔انھوں نےبتایا کہ پہلا اکاؤنٹ تبسم اسحاق ڈار جبکہ دیگر 8 اکاونٹس کمپنیوں کے نام پر کھولے گئے ۔

بینک کے حکم پر نیب لاہور میں اکاؤنٹ کی تصدیق شدہ کاپیاں فراہم کیں ۔قومی سرمایہ کاری ٹرسٹ کے مینجر شاہد عزیز نے بیان میں بتایاکہ اسحاق ڈار نے دو ہزار پندرہ میں بارہ کروڑ روپے کی اسلامی سرمایہ کاری کی

جنوری دو ہزار سترہ میں  اپنی رقم واپس لے لی ۔ مجموعی طور پر انہیں ساڑھے پندرہ کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی جو دستاویزات پیش کیں وہ خود تیارکیں نہ ان پر ان کے دستخط ہیں۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے گواہ کی  دستاویزت پر اعتراضات کر دیئےاور کہاکہ اصل دستاویز میں بعدازاں تبدیلی کی گئی،یہ بہت بڑا فراڈ ہے۔جج محمد بشیر نے بھی کہاکہ عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات اور اصل کاپی میں فرق ہے۔

طویل سماعت کے باعث ملزم اسحاق ڈار سمیت وزرا اونگھنے لگے۔وزرا کبھی وکلا اور کبھی گھڑی کو گھورتے رہے۔اسحاق ڈار دوران سماعت تسبیح پر ذکر میں مصروف رہے۔عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہوئے استغاثہ کے ایک اور گواہ کوطلب کرلیا۔ سماء

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.