ملک کےاہم ادارےمیں جعلی ڈگری پربھرتیوں کاانکشاف

October 12, 2017

اسلام آباد: ملکی انفرااسٹرکچر کی تعمیر کرنے والے ادارے نیسپاک میں جعلی ڈگری کےحامل انجینئیرز اور دیگر افسران کی بھرتی کا انکشاف ہواہے۔تنخواہوں اورمراعات کی مدمیں گیارہ کروڑ روپے ڈکار گئے۔آڈٹ حکام نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بھانڈا پھوڑ دیا۔ اجلاس کے دوران روحیل اصغر اور اعظم سواتی میں گرما گرمی بھی ہوئی۔

نیسپاک نے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان رئیسانی کی بات پلےسے باندھ لی۔ملک کا اہم ترین ادارہ جعلی ڈگری والوں کیلئے بھی  ملازمت کے یکساں مواقع فراہم کرنے لگا۔

پی اے سی اجلاس میں نیسپاک میں جعلی ڈگری والوں کی بھرتی کاانکشاف ہوا۔آڈٹ حکام نے بتایاکہ نیسپاک کے سولہ سب انجنئیرز،ایسوسی ایٹ انجینئرزاورٹیکنیشنزکی ڈگریاں جعلی نکلی ہیں۔فیلڈاسسٹنٹنٹس اور کلرکس کی ڈگریاں بھی جعلی نکلیں۔

آڈٹ حکام کے مطابق جعلی ڈگری ہولڈرز ملازمین کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی گئی ہے تاہم اب تک انہیں تنخواہوں اور مراعات کی مد میں 11 کروڑ روپے ادا کئے جا چکے ہیں۔

جعلی ڈگریوں کے معاملے پر ن لیگ کے رکن روحیل اصغر اور پی ٹی آئی کے اعظم سواتی میں گرما گرمی ہوئی۔اعظم سواتی کا کہنا تھاکہ اگر نیسپاک کا یہ حال ہے تو باقی اداروں کی حالت کیا ہوگی؟۔ اس پر روحیل اصغرنےکہاکہ سواتی صاحب معاملے کو ایشو نہ بنائیں،ساڑھے پانچ ہزار ملازمین میں جعلی ڈگری والے تو صرف 16 ہی ہیں،اپنے اداروں کو خود بدنام نہ کریں۔  سماء

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.