جہانگیرترین نااہلی کیس؛پی ٹی آئی رہنماکےدلائل سےعدالت غیرمطمئین

October 12, 2017

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جہانگیرترین نااہلی کیس کی سماعت کےموقع پر لیز زمین پر ٹیکس لاگو ہونے کےحوالےسےجہانگیرترین کےوکیل کےدلائل سےعدالت غیرمطمئن نظرآئی۔چیف جسٹس نےکہاکہ اگر کسی کی ساری زمین ہی لیزپرہوتو وہ فارم میں کیالکھےگا۔لیز کی زمین سے چاہے کوئی دس ارب کما لے تو کیا ٹیکس سے مستشنیٰ ہو گا؟

سپریم کورٹ میں جہانگیرترین نااہلی کیس کی سماعت ہوئی۔ نااہلی کیس میں جہانگیر ترین کے وکیل سکندر مہمند نے بتایا کہ انتخابی گوشواروں میں زرعی آمدن اور ٹیکس سے متعلق سوالات کے جوابات حقائق کے مطابق دیئے۔

جہانگیر ترین نے ایف بی آر کو زرعی سمیت مکمل آمدن بتائی تھی۔بےایمانی تب ثابت ہوگی جب تعین ہوگا کہ آمدن جان بوجھ کرکم بتائی گئی۔

چیف جسٹس نے سوال اٹھایا اگرکسی کی ساری زمین ہی لیز پر ہو تو وہ فارم میں کیا لکھے گا۔ لیزکی زمین سے چاہے کوئی دس ارب کما لے تو کیا ٹیکس سے مستشنیٰ ہو گا؟جہانگیر ترین کی زمین چاہے لیز پر تھی آمدن انہیں حاصل ہورہی تھی۔ آمدن مختلف ظاہر کرنا،ایمانداری کا معاملہ ہے۔اگرکوئی ٹیکس کم دے تواس کےلیےکیاسزاہوگی؟

چیف جسٹس نے جہانگیر ترین کے وکیل سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لیز زمین پرٹیکس لاگو ہونےپرفی الحال آپ مطمئن نہیں کرسکے۔دوران سماعت اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب اکرم شیخ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔چیف جسٹس نے پوچھاکہ شیخ صاحب آپ نے سرکیوں پکڑ لیا،بوریت تو نہیں ہو رہی؟اکرم شیخ نےجواب دیاکہ عدالتی کارروائی کو غور سے سن رہا تھا۔ایک موقع پر اکرم شیخ نے کہا سکندر مہمند اونچی آوازمیں بول کرحفیظ پیرزادہ کا انداز اپنا رہے ہیں۔چیف جسٹس نے حفیظ پیرزادہ کے انداز کو اپنانا اعزاز کی بات قرار دیا۔

عدالتی استفسار پر جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا آئندہ دو سماعتوں میں دلائل مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی گئی۔ سماء

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.