Thursday, October 1, 2020  | 12 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

عزیز بلوچ کے سنسنی خیز انکشافات، رپورٹ عدالت میں جمع

SAMAA | - Posted: Oct 9, 2017 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 9, 2017 | Last Updated: 3 years ago

کراچی : ارشد پپو اور اُس کے بھائی کو اغواء کرکے قتل کيا، انسپکٹر يوسف اور ايس ايچ او جاويد نے مدد کی، بدنام زمانہ لياری گينگ کے گرفتار سرغنہ عزير بلوچ کا اعترافی بيان اور جے آئی ٹی رپورٹ عدالت ميں پيش کردی گئی، سينٹرل جيل کے حوالدار سميت 4 شہريوں اور 2 رينجرز...

کراچی : ارشد پپو اور اُس کے بھائی کو اغواء کرکے قتل کيا، انسپکٹر يوسف اور ايس ايچ او جاويد نے مدد کی، بدنام زمانہ لياری گينگ کے گرفتار سرغنہ عزير بلوچ کا اعترافی بيان اور جے آئی ٹی رپورٹ عدالت ميں پيش کردی گئی، سينٹرل جيل کے حوالدار سميت 4 شہريوں اور 2 رينجرز اہلکاروں کے قتل کا بھی اعتراف کرلیا، خطرناک ملزم کی سی سی پی او وسيم احمد اور ايس ايس پی فاروق اعوان سے دوستی تھی، چودہ شوگر ملز پر قبضے کا بھی انکشاف کیا۔

بدنام زمانہ لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزير بلوچ نے جے آئی ٹی رپورٹ ميں تہلکہ خیز انکشافات کئے، رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی، جس میں اس نے بتایا کہ پوليس افسران اور اہلکار عزير بلوچ کے سہولت کار تھے، زمینوں پر قبضےمیں ایس ایس پی فاروق نے مدد کی، ارشد پپو کے اغواء اور قتل کیلئے پولیس موبائل کا استعمال کیا، اغواء اور قتل ميں انسپکٹر یوسف بلوچ اور ایس ایچ او جاوید بلوچ نے مدد کی، سی سی پی او وسیم احمد اور ایس ایس پی فاروق اعوان کے ساتھ دوستانہ رابطہ تھا۔

عزیر کا مزید کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی قيادت کے احکامات پر 14 شوگر ملوں پر قبضہ کرایا، سابق صدر آصف زرداری کے کہنے پر ميری ہيڈ منی ختم ہوئی، پی پی رہنماؤں کے حکم پر بلاول ہاؤس کے قريب بنگلے خالی کرائے، مالکان کو ڈرایا اور دھمکایا، پیپلزپارٹی نے 2013ء میں میری سفارش پر اراکین کو ٹکٹس دیئے۔

کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے رہنماء نے مزید بتایا کہ ڈائریکٹر فشریز سعید بلوچ اور نثار مورائی ميری سفارش پر تعینات ہوئے، رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں سمیت کئی افراد کو قتل کرایا، ایرانی ایجنسی نے تحفظ دینے کی ضمانت دی، غیر ملکی ایجنسی کو سیکیورٹی اداروں کی تنصیبات، افسران اور دفاتر سے متعلق معلومات دیں۔

عزیر بلوچ نے استدعا کی ہے کہ پولیس حراست میں نہ رکھا جائے، خدشہ ہے قتل کردیا جائے گا، وہ کہتے ہیں کہ تمام کاموں کیلئے مجھے سیاسی حمایت حاصل تھی، سرپرستی انسپکٹر یوسف بلوچ، کانسٹیبل چاند خان نیازی و دیگر کرتے تھے، ان تمام افراد کو ذوالفقار مرزا، قادر میمن اور یوسف بلوچ نے تعینات کرایا۔ عدالت نے 6 نومبر کو ایس ایس پی سے کیس کی پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔ سماء

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube