اسپاٹ فکسنگ؛5 کھلاڑیوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم

March 20, 2017

Chaudhry-Nisar-ali-khan-640x425

اسلام آباد:وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تمام کرکٹرزکے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی منظوری دے دی۔ کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ گھناؤنے کاروبار میں ملوث بکیز کے خلاف بھی کارروائی کی ہدایت کر دی گئی۔

اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل ) میں ڈالنے کا فیصلہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی زیرِ صدارت اعلیٰ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری داخلہ، ایڈوکیٹ جنرل، نادرا، پی ٹی اے، ایف آئی اے اور وزارتِ داخلہ کے سینئر افسران شریک تھے۔

ای سی ایل پر ڈالے جانے والے کھلاڑیوں میں شرجیل خان، خالد لطیف،ناصرجمشید، شاہ زیب حسن خان اور محمد عرفان شامل ہیں۔

اسپاٹ فکسنگ کے معاملے پر ایف آئی اے حکام کی جانب سے وزیرِ داخلہ کو بتایا گیا کہ خالد لطیف اور محمد عرفان نے ایف آئی اے کو اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے ہیں جبکہ دیگر کھلاڑی کل اپنے بیانات دیں گے۔ وزیرِ داخلہ نے پی ٹی اے حکام کو ہدایت جاری کی  کہ کرکٹ میں جوا لگانے اور اسے فروغ دینے والی  تمام ویب سائٹس کو بھی بند کرنے کے حوالے سے اقدامات کئے جائیں تاکہ اس گھناؤنے کاروبار کا سدباب کیا جا سکے۔

وزیرِ داخلہ نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ اسپاٹ فکسنگ کے معاملے کی ہر پہلوسے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں  تاکہ پاکستان کا نام بد نام کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تفتیش میں زیرو ٹالینرنس پالیسی اختیار کی جائے اور کسی بھی ملوث شخص کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔

ایف آئی اے حکام نے اجلاس میں نادرا بلڈنگ کیس پربھی اب تک کی پیش رفت سے وزیرِ داخلہ کوآگاہ کیا۔ وزیرِ داخلہ نے ہدایت دی کہ آئندہ نادرا آفسزکے لئے کوئی بھی عمارت کرایے پر حاصل  کرنے کی بجائے اپنی عمارت تعمیر کرنے کو ترجیح دی جائے۔وزیرِ داخلہ نے نادرا حکام کو ہدایت کی کہ نادرا کی اپنی عمارتوں کے قیام کے لئے سرکاری زمینوں کی نشاندہی کی جائے اور عمارتوں کی تعمیر کے لئے مرحلہ وار بلڈنگ پلان ترتیب دیا جائے۔

اجلاس میں برطانوی ہوم سیکرٹری کے دورہ پاکستان کے سلسلے میں کئے جانے والے سیکیورٹی انتظامات اور دورے کے دوران امیگریشن، کاؤنٹر ٹریرازم اور ہیومن ٹریفکنگ جیسے مختلف امور میں تعاون کے فروغ کے لئے ممکنہ دو طرفہ معاہدوں پر بھی غور کیا گیا۔ سماء

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.